ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کون سا گوشت معدے کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے؟ 

کون سا گوشت معدے کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے؟ 
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: چکن کو عموماً سرخ گوشت سے زیادہ صحت بخش سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں چکنائی کم اور پروٹین زیادہ ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے وزن کم کرنے اور فٹنس کے شوقین افراد اسے اپنی خوراک کا حصہ بناتے ہیں۔ تاہم، حالیہ تحقیق نے اس پر نئے سوالات کھڑے کیے ہیں۔

اطالوی سائنسدانوں کی ایک تحقیق، جو سائنسی جریدے نیوٹریئنٹس میں شائع ہوئی، کے مطابق جو افراد ہفتے میں 300 گرام سے زیادہ چکن کھاتے ہیں، ان میں معدے اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ ایسے افراد میں موت کا خطرہ 27 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، اور مردوں میں یہ خطرہ 2.6 گنا تک بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، چکن بذاتِ خود کینسر کا سبب نہیں بنتا، بلکہ چکن کو پکانے اور پروسیس کرنے کے طریقے اس کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ زیادہ درجہ حرارت پر چکن پکانے سے کیمیائی مرکبات پیدا ہوتے ہیں جو انسانی ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

خطرے کے عوامل:

1. زیادہ درجہ حرارت پر پکانا: گرل یا تلی ہوئی چکن میں مضر کیمیکلز پیدا ہو سکتے ہیں۔
2. پراسیس شدہ گوشت: زیادہ نمک اور کیمیکلز معدے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
3. غیر متوازن غذا: روزانہ چکن کھانے سے سبزیاں، فائبر اور دیگر پروٹین ذرائع کم ہو سکتے ہیں۔
4. پولٹری فارمنگ کے اثرات: اینٹی بائیوٹکس اور ہارمونز جسم میں میٹابولک تبدیلیاں پیدا کر سکتے ہیں۔

کیا چکن چھوڑ دینا چاہیے؟

ماہرین چکن کو مکمل طور پر ترک کرنے کی تجویز نہیں دیتے، بلکہ اعتدال کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ ہفتے میں 300 گرام تک چکن کھانا نسبتاً محفوظ ہے۔ ان کے مطابق مچھلی، انڈے اور دالیں بھی خوراک میں شامل کی جانی چاہئیں، اور چکن کو اُبالنے یا ہلکا پکانے کو ترجیح دی جائے۔

چکن پروٹین کا اچھا ذریعہ ہے، لیکن اسے روزمرہ کی خوراک کا مرکز بنانا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ صحت مند زندگی کے لیے متوازن اور متنوع غذا بہترین ہے۔