ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عظمی خان کی پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقاتیں بند ہو گئیں

Uzma Khan, Imran Khan , City42, Adiala Jail, Jail Manual , Azam Nazir Tarar
کیپشن: عظمیٰ خان پی ٹی آئی کے بانی کی بڑی بہن ہیں، ان کی منگل کے روز اڈیالہ جیل مین پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقات کروائی گئی تھی۔ بیس منٹ کی اس ملاقات کے بعد جیل سے باہر آ کر عظمیٰ خان نے اور ان کی بہن علیمہ خان نے میڈیا کیمروں کے سامنے  عملاً پی ٹی آئی کی سیاست کو کنٹرول کرنے اور ایک پورے صوبے کی حکومت کو ڈکٹیٹ کرنے والی باتیں بتائیں۔  ان کی باتوں سے اشتعال بھی پھیلا اور یہ تاثر ایک بار پھر پختہ ہوا کہ پی ٹی آئی کے بانی جیل مین بیتھ کر ملاقاتیوں کے ذریعہ ایسی پارٹی کو اور اس کے ساتھ ایک پورے صوبے کی حکومت کو ڈکٹیٹ کرنا چاہ رہے ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  بھارتی میڈیا کو انٹرویو دینے، جیل میں ملاقات کرنے کے بعد باہر آ کر سیاست کرنے کے سبب جیل انتظامیہ نے  عظمی ٰ خان کی پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقاتوں پر پابندی لگا دی ہے۔ 

وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے آج اسلام آباد میں ایک اہم نیوز کانفرنس کی ہے جس مین انہوں نے دیگر باتوں کےساتھ یہ بھی بتایا کہ  بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کے متعلق تمام تر اختیار اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کا ہے جو اسے رولز کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ 

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ جیل مینوئل کے مطابق "سپیریئر پریزنز " (اعلیٰ درجہ کا قیدی) ہفتے میں ایک بار ملاقات کرسکتا ہے.ملاقات میں 6 سے زیادہ لوگ شامل نہیں ہوسکتے .سپرنٹنڈنٹ جیل ملاقات کو روکنے کا اختیار رکھتے ہیN. 

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ  بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت کا اختیار پنجاب حکومت کو ہے۔

 پنجاب حکومت الگ سے بتا چکی ہے کہ اس اختیار کو اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ خود آزادی، اختیار اور ارادہ کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ وہ جیل مینوئل کی پابندی کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ  نے بتایا کہاڈیالہ جیل  کے مینوئل کے مطابق  ہفتے میں صرف ایک دفعہ ملاقات کروائی جا سکتی ہے۔

رول 265 کے تحت قیدی ہفتے میں ایک چٹھی لکھ سکتے ہیں اور ایک ملاقات کر سکتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ 6 افراد سے ہو سکتی ہے۔

اس ملاقات میں سیاست یا قیدیوں سے متعلق بات نہیں ہو سکتی اور نہ ہی وہ ملاقات پبلک کی جا سکتی ہے ۔

رول 557 کہتا ہے کہ خلاف ورزی پرجیل سپریڈنٹ کی جانب سے ملاقاتیں رکوائی جا سکتی ہیں ۔
 قانون کے مطابق بانی پی ٹی آئی ہفتے میں ایک خط اور ایک ملاقات کرسکتے ہیں۔  وہ جیل رولز کے مطابق اپنی ملاقاتوں میں سیاسی گفتگو نہیں کر سکتے ۔

رولز میں واضح لکھا ہے کہ ملاقات میں جو بھی بات ہو گی اس کو پبلک نہیں کیا جا سکتا۔

بانی پی ٹی آئی ایک سز یافتہ مجرم ہیں

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا،  بانی پی ٹی آئی ایک سز یافتہ مجرم ہیں۔

وزیر قانون نے بتایا کہ عظمی خان کی بھی اب ملاقات نہیں ہو گی۔ 

 اعظم نذیر تارڑ  نے یہ بھی کہا کہ عام  قیدی کو بغیر نگرانی کے ملاقات کی اجازت نہیں ہوتی۔

رول557 کے تحت اگر سپرنٹینڈنٹ اگر قواعد کے مطابق ملاقات نہ سمجھیں وہ اسے ختم کر سکتے ہیں۔ 

اگر سپرنٹینڈنٹ کو امن وامان، نقص امن، انتشار کا خدشہ ہو تو وہ ملاقات روک سکتا ہے۔

نواز شریف کے لئے بھی یہی قواعد تھے

اعظم نذیر تارڑ نے کہا، اسی قانون پر عمل ہورہا ہے جو سال ہا سال سے لاگو ہے۔ کوٹ لکھ پت جیل میں نواز شریف پر بھی یہی قانون لاگو تھا۔
 اس وقت کی صوبائی حکومت نے ملاقاتیں نہ کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس دور میں قیدیوں کو جیل میں بھی الگ الگ رکھا گیا۔
ہم ملنے جاتے تھے تو ہمیں بہت سی پابندیوں پر عمل کرنا پڑتا تھا،۔
ملاقات کے بعد باہر آکر سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں تھی۔