عثمان خادم:حکومت پنجاب نے تہوار کے موقع پر پتنگ بازی کی مشروط اجازت دے دی ہے، جس پر پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
اراکینِ اسمبلی نے اس موقع پر حفاظتی ایس او پیز کی پابندی کی ضرورت پر زور دیا اور تہوار کو محفوظ بنانے کے اقدامات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
حکومت پنجاب نے لاہور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں تہوار کے دوران پتنگ بازی کی مشروط اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے پر پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن اراکین نے مختلف رائے کا اظہار کیا۔
علی حیدر گیلانی نے کہا کہ پتنگ بازی ہماری ثقافت کا حصہ ہے، تاہم ایس او پیز پر عمل ضروری ہے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔ رانا ارشد نے حکومت کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ فول پروف انتظامات کیے جائیں گے تاکہ تہوار خوشگوار اور محفوظ ہو۔
رانا احمد شہریار نے کہا کہ تہوار کو محفوظ بنانے کے لیے سخت مانیٹرنگ ناگزیر ہے، جبکہ فرخ جاوید مون نے اس بات پر زور دیا کہ ایس او پیز کے بغیر محفوظ پتنگ بازی ممکن نہیں۔
کئی اراکین نے کہا کہ تہوار بحال ہونا خوش آئند ہے، مگر انسانی جانوں سے کھیلنا ہرگز قبول نہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ حفاظتی اقدامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ عوام حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور صرف مخصوص علاقوں میں پتنگ بازی کریں تاکہ حادثات سے بچا جا سکے, اس فیصلے کے بعد تہوار کی رونق برقرار رہنے کے امکانات روشن نظر آ رہے ہیں، تاہم حفاظتی اقدامات پر خاص توجہ دی جائے گی۔