ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

یومِ استحصالِ کشمیر،ظلم کے سائے میں سبز پرچم کی امید!

سفیر رضا چغتائی

یومِ استحصالِ کشمیر،ظلم کے سائے میں سبز پرچم کی امید!
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پانچ اگست 2019 ء کا دن کشمیری تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جس کا درد ہر کشمیری کے دل میں گہرائی سے محسوس کیا جاتا ہے۔ یہ دن کشمیریوں کے لیے محض ایک آئینی اور سیاسی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک ایسا زخم تھا جس کا اثر نسل در نسل جاری رہے گا۔ پانچ اگست کے اس دن بھارت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-A کو ختم کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کر دیا، کشمیری عوام کے حقوق، ان کی شناخت اور ان کے سیاسی تشخص کو پامال کر دیا۔یہ تبدیلی محض ایک سرکاری فیصلے کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ کشمیری قوم کے وجود اور خود مختاری پر ایک گہرا حملہ تھا۔ اس دن سے کشمیر میں ایک نئی جنگ کی شروعات ہوئی، جس میں کشمیری عوام کی آزادی، ان کے حقوق، اور ان کی آرا کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ وادی میں خوف کا ایسا ماحول قائم کیا گیا کہ کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے حریت قیادت کو جیلوں میں بند کر دیا گیا، نوجوانوں کی بلاوجہ گرفتاریاں معمول بن گئیں اور مواصلات کی آزادی کو مکمل طور پر سلب کر لیا گیا۔

 اس کے بعد جو کچھ بھی ہوا وہ محض ایک معمولی سا واقعہ نہیں تھا۔ وادی میں جاری کرفیو، مواصلاتی بلیک آؤٹ، اور کشمیری عوام پر ہونے والے ظلم و ستم کی داستانیں اب دنیا بھر میں مشہور ہو چکی ہیں۔ بھارتی حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے سے کشمیری عوام کی زندگی میں خوشحالی آئے گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیری عوام کو جبر، خوف، اور عدم تحفظ کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا۔ تعلیمی ادارے، کاروبار، اور سیاحت جیسے اہم شعبے تباہ ہو چکے ہیں، اور کشمیری عوام خود کو پہلے سے زیادہ تنہا، غیرمحفوظ، اور بے یار و مددگار محسوس کرتے ہیں۔
”یومِ استحصال کشمیر“  صرف ایک احتجاجی دن نہیں ہے بلکہ یہ ایک عہد کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی محض ایک قانونی یا سیاسی معاملہ نہیں، بلکہ ایک انسانی المیہ ہے۔ اس دن کی اہمیت صرف کشمیریوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ دن عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے ہے تاکہ دنیا اس ظلم کو پہچانے اور کشمیریوں کو ان کے حقِ خودارادیت سے محروم نہ کرے۔ کشمیری عوام کا یہ احتجاج صرف سیاسی آزادی کے لیے نہیں، بلکہ اپنے تشخص کی بحالی، اپنی ثقافت اور زبان کے تحفظ اور اپنے انسانی حقوق کیلئے ہے۔ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ تقسیم کشمیر کے ساتھ جو خاندانی رشتہ، محبت، اور جذباتی تعلقات کی تباہی ہوئی، وہ اس کہانی کا ایک اور تکلیف دہ پہلو ہے جو عموماً نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ 1947 میں تقسیم کے بعد کشمیری خاندانوں کی تقدیر میں ایک ایسا دریا حائل ہو گیا ہے جو انہیں ایک دوسرے سے جدا کر رہا ہے۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف درجنوں کشمیری خاندانوں کے بیچ ایک ایسی دوری اور جدائی قائم ہو چکی ہے جس کا مداوا ممکن نہیں۔

  کشمیر کے ہر گاؤں میں کوئی نہ کوئی ایسا خاندان موجود ہے جس کی آنکھیں اپنے پیاروں کی دیدار کے لیے ترس رہی ہیں۔یہ ایک اذیت ہے جس کا شدت سے شکار ہر کشمیری ہے۔ تقسیم کے اس درد کو کم کرنا یا اس سے چھٹکارا پانا اب ایک خواب بن چکا ہے۔ کبھی کسی کشمیری کے دل میں اپنے والدین، بھائی، بہن یا کسی قریبی رشتہ دار سے ملنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے، تو اسے نہ جانے کتنی دہائیاں گزر جاتی ہیں، پھر بھی وہ خواہش اپنی جگہ ایک مایوس کن حقیقت بن کر رہ جاتی ہے۔

  آزاد کشمیر کے بوڑھے والدین، جو اپنی اولاد کی آواز سننے کے لیے ترس رہے ہیں، وہ اپنی زندگی کی آخری گھڑیاں انتظار میں گزار دیتے ہیں اور دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں وہ بچے جو اپنی والدہ کا آخری وقت گزارنے کے لیے ان کے قریب نہیں جا سکتے، وہ بھی زندگی کے ایک دردناک سفر پر ہیں۔یومِ استحصال کشمیر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ یہ صرف زمین کی تقسیم نہیں تھی، بلکہ انسانیت کے رشتہ، محبت، اور خاندانی تعلقات کی بھی تقسیم تھی۔ یہ صرف ایک آئینی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ انسانی تعلقات کی ایک ایسی حقیقت کو نظرانداز کیا گیا جس کی تلافی ممکن نہیں۔
یومِ استحصال کشمیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ صرف زمین کی تقسیم نہیں تھی، بلکہ انسانیت، رشتوں اور جذبات کی تقسیم تھی۔ یہ دن ایک ایسا آئینہ ہے جس میں دنیا کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔کیا وہ اس ظلم پر خاموش رہ کر تاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہوگی؟ یا مظلوم کی آواز بن کر تاریخ میں اپنا نام لکھوائے گی؟۔ کشمیریوں کی قربانیاں، ان کا صبر، ان کی مزاحمت، ان کا احتجاج، سب کچھ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھا جا رہا ہے۔ ان کے پُرامن اور باوقار احتجاج نے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کی جدوجہد صرف زمین کے لیے نہیں، بلکہ عزت، شناخت، محبت اور خاندانی رشتوں کی بحالی کے لیے ہے۔وہ دن ضرور آئے گا جب بارود کی جگہ پھول کھلیں گے، جب تقسیم شدہ خاندان دوبارہ ایک چھت تلے ہوں گے اور جب سرینگر سے مظفرآباد تک ایک ہی پرچم لہرا رہا ہوگا.

 سبز ہلالی پرچم! وہ دن، جب کشمیر نہ صرف آزاد ہوگا بلکہ پاکستان کی تکمیل کا تاج بھی بنے گا۔پانچ اگست ایک یاد، ایک زخم اور ایک سوال ہے اور کشمیریوں کا یقین کہ یہ ظلم جتنا بھی گہرا ہو، ایک دن امن و محبت کا سورج ضرور طلوع ہو گا۔ آج بھی، پانچ اگست کو ہونے والے اس ظلم کی گونج کشمیری عوام کے دلوں میں سنائی دیتی ہے۔کشمیری آج بھی سراپا احتجاج ہیں، چاہے وہ لائن آف کنٹرول کے اس طرف ہوں یا اس طرف۔ ان کا احتجاج صرف زمین کے لیے نہیں، بلکہ عزت، شناخت، محبت اور خاندانی رشتہ کی بحالی کے لیے ہے۔ کشمیریوں کی آواز ابھی تک پوری دنیا تک نہیں پہنچی، لیکن وہ اس بات پر پُرامید ہیں کہ ایک دن دنیا اس ظلم کو پہچانے گی اور ان کا حقِ خودارادیت ان کے ہاتھوں میں ہوگا۔پانچ اگست کا دن کشمیریوں کی قربانیوں اور ان کی جدوجہد کی گواہی دیتا ہے۔ یہ دن اس بات کا آئینہ دار ہے کہ کشمیر کا درد صرف کشمیری کا نہیں، بلکہ انسانیت کا امتحان ہے۔ جب تک کشمیر کی تکلیف کا حل نہیں نکلتا، یہ سوال دنیا کے ضمیر کو گہرائی سے جھنجھوڑتا رہے گا۔
کشمیری عوام نے بارہا اقوام متحدہ سمیت دنیا کے تمام مؤثر اور بااثر فورمز پر اپنی فریاد سنانے کی کوشش کی۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی ایک کونے میں گرد میں لپٹی ہوئی پڑی ہیں۔ عالمی ضمیر بارہا جھنجھوڑا گیا، انسانی حقوق کی تنظیموں کو دہائی دی گئی، لیکن ہر بار مایوسی کشمیریوں کا مقدر بنی۔ آج کشمیر کی حالت دیکھ کر دنیا کو غزہ کی یاد آتی ہے‘جہاں لاشیں تو گنی جاتی ہیں، مگر انسانیت کی لاج کوئی نہیں رکھتا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کشمیری عوام نے اپنے تمام تر خواب، اُمیدیں اور دعائیں ایک ہی در پر مرکوز کر دی ہیں اور وہ ہے افواجِ پاکستان! اب کشمیری عوام پاک فوج کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ ان کی نظریں اُن ہی محافظوں پر ٹکی ہوئی ہیں جنہوں نے پاکستان کے آزاد خطے کے عوام کو ہمیشہ ہر مصیبت سے نکالا، ہر آزمائش میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوا۔

  کشمیریوں کو یقین ہے کہ جس طرح آزاد کشمیر میں پاک فوج انسانیت، امن اور بقا کی علامت ہے، اسی طرح ایک دن آئے گا جب سرینگر کی وادی میں بھی سبز ہلالی پرچم کا سایہ ہو گا۔ آج سرینگر کی بیٹیاں، مائیں، بزرگ اور نوجوان سب فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی راہ تک رہے ہیں۔ وہ اُس دن کے منتظر ہیں جب وہ اس جبر، اس غلامی اور اس لاچاری سے انہیں نجات دلانے کے لیے آئیں گے۔ کشمیر کی بیٹیوں کی آنکھوں میں ایک سوال ہے، ایک دعا ہے، اور ایک التجا ہے‘کیا وہ دن آئے گا جب ہم بھی آزاد فضاؤں میں سانس لیں گے؟ کیا ہمارے سروں پر بھی وہی سبز پرچم سایہ فگن ہوگا جو ہمارے دلوں میں برسوں سے لہرا رہا ہے۔
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر