بسیم افتخار: ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے بعد تاجروں نے غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔
تاجروں کے مطابق ابتدائی طور پر دالوں اور دیگر غذائی اجناس کی قیمتوں میں 2 سے 3 روپے فی کلو تک اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ آنے والے دنوں میں اس کے اثرات مزید سامنے آئیں گے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دالیں اور دیگر غذائی اجناس بڑی مقدار میں مختلف ممالک سے درآمد ہو کر بندرگاہوں پر آتی ہیں، جہاں سے انہیں حیدرآباد سمیت مختلف شہروں میں واشنگ اور پراسیسنگ کیلئے منتقل کیا جاتا ہے۔ اس تمام عمل میں ٹرانسپورٹ کا بڑا کردار ہوتا ہے اور ٹرانسپورٹ کے کرائے ڈیزل کی قیمت سے منسلک ہوتے ہیں۔
تاجروں کے مطابق ڈیزل مہنگا ہونے سے مال برداری کے کرایوں میں اضافہ ہو جاتا ہے جس کے باعث غذائی اجناس کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی ابتدائی طور پر معمولی اضافہ متوقع ہے لیکن اگر ڈیزل کی قیمتیں برقرار رہیں تو آئندہ دنوں میں مزید مہنگائی کا امکان ہے۔
تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام لایا جائے تاکہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ ہو اور عوام کو ریلیف مل سکے۔