ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کیا امریکہ و اسرائیل کی مشکلات بڑھ گئیں ؟

تحریر: سید عارف نوناری

کیا امریکہ و اسرائیل کی مشکلات بڑھ گئیں ؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

امریکہ کی پالیسوں کی وجہ سے پوری دنیا کے ممالک تنگ ہیں امریکی عوام میں بھی ردعمل سامنے آتا رہتا ہے بین الاقوامی قوانین یہ کہتے ہیں کہ آزاد ریاستیں اپنے معاشی سیاسی اور سماجی معا ملا ت چلانے میں خود مختار ہیں کوئی ریاست ان میں بلاجواز مداخلت نہیں کر سکتی ہے امریکہ اسرائیل ایران میں جنگ کے بعد  عالمی طاقتوں اور حامی ممالک  کو ساتھ ملانے کی کوشیش جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں کیا ان کی مشکلات بڑھ گئی ہیں کیونکہ ایران امریکہ اسرائیل جنگ میں خلیجی ممالک کے ساتھ ان کے تعلقات اور اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔

 خلیجی ممالک کا اب امریکہ پر اعتماد کم ہو گیا ہے کیونکہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی خاطر خلیجی ممالک اور ایران سے اپنے خارجی تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے ہیں  ایران کی مشکلات بدستور قائم ہیں لیکن اتنی نہیں جتنی پہلے تھیں امریکہ کے خلاف ردعمل پوری دنیا سے ہمیشہ آتا رہتا ہے اور رائے عامہ میں بھی نفرت کے جذبات ملتے ہیں  غزہ پر اسرائیل اور امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ اتنے مظالم ڈھائے کہ تاریخ میں واقعہ کربلا کے بعد دنیا کی تاریخ میں مظالم کے حوالہ سے دوسرا بڑا سانحہ ہے "دوسوچوہے کھا کے بلی حج کو چلی "کے مصداق امریکہ کا حال ہے امریکہ اور اسرائیل نے ملکر ایران پر بھی لا تعداد حملے کیے جس سے مشرق وسطی کا امن تباہ ہوا اور مشرق وسطی میں بے یقینی کی صورت حال ہے  پوری دنیا میں پٹرول کی قلت پیدا ہوئی اور پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاو کی وجہ سے معیشتوں پر بھی دباو جاری ہے افراط زر میں پوری دنیا میں پیٹرول کی قیمتوں کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کس کا ہے یہ وقت ہی فیصلہ کرے گا   امریکہ پہلے کسی ملک پر جارحیت کا مظاہرہ کرتا ہے اور پھر قبضہ نہ ہونے کی صورت میں تباہی و بربادی کے بعد بحالی کا عمل کرتا ہے یہ کیسی پالیسی ہے   ۔

 امریکی عوام   غزہ کے لوگوں کیلئے روشن مستقبل چاہتے ہیں، اقوام متحدہ بہت اہم ہے لیکن اس کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا ہے ۔  ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مار کو روبیو،اسٹیو وٹکو ف نے جیرڈکشنر نے غزہ کیلئے بہت کام کیا وہ قیام امن کیلئے کوششیں کررہے ہیں لیکن ایسا نظر نہیں آ رہا ہے   اسرائیل اور امریکہ جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتا آ رہا ہے  امریکہ دنیا کے ہر ملک میں مداخلت اور جارحیت کا عادی ہو چکا  اوروہ  پر امن ماحول کو پسند نہیں کرتا ہے ریاستوں کی سالمیت اور خود مختاری میں مداخلت کا حق بلا جواز کسی ملک کو نہیں ہے امریکہ کا دعوی ہے  کہ وہ غزہ کے روشن مستقبل کیلئے کام کر رہا ہے اور وہ پر سکون پر امن اورہم  آ ہنگ مشرق وسطیٰ چاہتے ہیں۔  اسرائیل و امریکہ ایسا غزہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جس پر طرز حکمرانی مناسب طریقے سے ہواور ان کی مداخلت بھی قائم رہے   دنیا میں نویں جنگ بھی ختم ہونے کے قریب ہے -کچھ جنگیں 35،کچھ 32سال سے جاری تھیں،دنیا میں امن سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں امن قائم کرنےکے لیے تمام ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔

 آ ذربائیجان ا و ر آرمینیا کے درمیان امن معاہدہ ہوا،  پاک بھارت جنگ کے دوران اور ایران اسرائیل مذاکرات کروانے کی وجہ سے  امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مضبو ط ہوئے۔ جس کے سبب امریکہ پاکستان پراعتماد کرتا ہے ایران امریکہ اسرائیل جنگ بندی کی کوششوں کے سبب پاکستان عالمی سطح پر اہمیت اختیار کر چکا غزہ کی تعمیر نو اور استحکام کیلئے ممالک متحرک ہیں- غزہ اب مزید انتہاپسندی اور دہشت گردی برداشت نہیں کر سکتا ۔   اقوام متحدہ قابل عمل اور اہم بین الاقوامی ادارہ ہے  ۔ دنیا میں امن سے زیادہ کوئی اور چیز اہم نہیں، پائیدار امن کیلئے دنیا بھر کے ممالک کو کوشیشیں کرنی چاہیں تاکہ دنیا امن کے ساتھ زندگی بسر کر سکے پاکستان کا موقف ہے کہ وہ غزہ میں پائیدارامن چاہتے ہیں ۔امریکہ بضد ہے کہ وہ  ایران کو مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایٹمی ہتھیار نہیں رکھنے دیں گے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ مشرق وسطی میں امن کو تباہ کیا امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہونگے تو خطے میں امن ممکن نہیں ہو گا باقی ممالک جب ایٹمی ہتھیار رکھ سکتے ہیں تو ایران کیوں نہیں رکھ سکتا ہے  ایک طرف امریکی صدر امن کی بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف وہ اور اسرائیل  ایران کے خلاف محاذ آرائی پرہمیشہ تیار رہتے  ہیں امریکی صدر کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے ۔

 امریکہ کبھی بھی اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا غزہ میں امریکہ اور اسرائیل 70000  ہزار سے زائد لاشیں گرا کر  امن کی باتیں بھی کرتا ہے  لاکھوں فلسطین بچے اور بوڑھے زخمی ہوئے ہیں کسی ملک کو کھنڈرات بنا کر  بحالی کا عمل شروع کرنا امریکی حواریوں کو شرم آنی چاہیے امریکہ کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ دنیا کے ممالک پر جارحیت اس لیے کرتا ہے کہ قبضہ کرکے اس ملک کے وسائل استعمال کیے جا سکیں ایران پر بھی وہ اور اسرائیل قبضہ کرکے اس کے وسائل استعمال کرنا چاہتے ہیں ایک رپورٹ بھی  سامنے آئی ہے امریکہ اور یورپ سمیت 58 ممالک کے 61 فیصد شہریوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں ناپسندیدہ ترین شخصیت قرار دیدیا۔گیلپ انٹرنیشنل  کے مطابق بینجمن نیتن یاہو کو عالمی سطح پر ناپسند کرنیوالوں کی مجموعی شرح 2019 کے مقابلے میں 20 فیصد بڑھی ہے۔سروے میں امریکا  اور یورپ سمیت 58 ممالک کے 61 فیصد شہریوں نے اسرائیلی وزیراعظم کو ناپسندیدہ ترین شخصیت قرار دیا۔

 سروے میں لوگوں نے فلسطینیوں کیخلاف انسانیت سوز مظالم میں اسرائیلی وزیراعظم کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔  اسرائیلی وزیراعظم کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ  ایران کے 98 فیصد شہریوں نے کہا۔ یورپی ممالک میں بھی ناپسندیدگی کی شرح زیادہ دکھائی دی۔برطانیہ میں 52فیصد،امر یکا میں 42فیصد افراد  نیتن یاہو کیلئے کھل کر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے نظر آئے -پاکستان میں 49 فیصد نے اسرائیلی وزیر اعظم کو ناپسندیدہ ترین شخصیت قرار دیا۔اس کے برعکس آذربائیجان، کینیا، اور بھارت میں نیتن یاہو کو زیادہ حمایت ملی۔کینیا اور آذربائیجان میں 58 فیصد، بھارت میں 50فیصد نے اسرائیلی وزیر اعظم کی حمایت کی۔امریکہ دن بدن مشکلات میں پھنستا جا رہا ہے اور امریکی پالیسوں کے خلاف نفرت کے جذبات بھی سامنے آتے رہتے ہیں امریکہ کو خود مختار ریاستوں میں مداخلت کا وطیرہ ختم کرنا چاہیے اور آزاد ممالک کو ان کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنی چاہیے تاکہ معاشرتی اور سماجی الجھنوں سے بچ جا سکے امریکی عوام کے رویوں میں تبدیلی آ گئی ہے اور وہ جنگوں کی زندگی سے تنگ آ چکے امن سے رہنے کے وہ ممتنی بن چکے ہیں۔

 نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر