عرفان ملک: لاہور پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے منصوبے کے تحت باڈی کیمروں کی پہلی کھیپ موصول ہوگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک ہزار جدید باڈی کیمروں پر مشتمل ابتدائی شپمنٹ لاہور پولیس کے اہلکاروں کو فراہم کی جائے گی۔
حکام کے مطابق پنجاب پولیس کے لیے مجموعی طور پر 30 ہزار باڈی کیمرے خریدنے کی منظوری دی گئی تھی۔ جدید کیمروں میں آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کے علاوہ گروپ کال، پش ٹو ٹاک اور فیشل ریکگنیشن جیسے جدید فیچرز بھی موجود ہیں۔
باڈی کیمرے مرحلہ وار سی ٹی ڈی، آپریشنل اور انویسٹی گیشن پولیس سمیت تمام آپریشنل فورسز کو فراہم کیے جائیں گے۔ ٹریفک پولیس، ایلیٹ فورس، ہائی وے پٹرول اور مختلف پولیس یونٹس کے اہلکار بھی باڈی کیمروں سے لیس ہوں گے، جبکہ پولیس اسٹیشنز اور پولیس پوسٹس پر تعینات اہلکاروں کو بھی یہ کیمرے فراہم کیے جائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ باڈی کیمروں کے ذریعے پولیس کارروائیوں کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کے ساتھ براہِ راست نگرانی بھی ممکن ہوگی۔ دورانِ ڈیوٹی ریکارڈ ہونے والی ویڈیوز باڈی کیمرے میں محفوظ رہیں گی اور ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد کیمرہ ڈاک اسٹیشن پر رکھنے سے تمام ریکارڈنگ خودکار طور پر سسٹم میں منتقل ہوجائے گی۔
پش ٹو ٹاک فیچر کے ذریعے فیلڈ افسران اور کنٹرول روم کے درمیان فوری رابطہ بھی ممکن ہوگا۔ حکام کے مطابق باڈی کیمروں کی خریداری کے لیے آئی جی پنجاب نے 269 کروڑ 5 لاکھ روپے کے فنڈز طلب کیے تھے۔