ویب ڈیسک :امریکی وفاقی جج نے گوگل کے خلاف اجارہ داری سے متعلق مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کمپنی کو اپنے کروم براؤزر کی فروخت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی جج نے اپنے فیصلے میں کمپنی کو ڈیوائس مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے ساتھ خصوصی معاہدے کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گوگل سرچ انجن کو اپنے حریفوں کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ اگست 2024 میں امریکی فیڈرل جج امیت مہتا نے گوگل کی اجارہ داری کے خلاف دائر مقدمے کا ابتدائی فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ گوگل نے انٹرنیٹ سرچنگ میں اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے غیر قانونی اقدام کیا۔
ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کورٹ کے جج امیت مہتا نے کہا کہ تمام گواہوں کے بیانات اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ گوگل ایک اجارہ دار ہے اور کمپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کیلئے اقدامات کرتی ہے جو شرمین ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ گوگل کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی۔ اب کئی ماہ بعد جج امیت مہتا نے اس معاملے میں گوگل کے خلاف سزا کے حوالے سے ہدایات جاری کی ہیں۔
انہوں نے گوگل کو کروم براؤزر رکھنے کی اجازت دی ہے جو کہ کمپنی کیلئے بہت نرم سزا ہے۔ کیونکہ امریکی وفاقی حکومت نے عدالت سے کہا تھا کہ کمپنی کے کچھ حصوں کی فروخت پر مجبور کیا جائے۔
230 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جج نے کہا کہ استغاثہ گوگل کے اہم اثاثوں کی جبری فروخت کا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
اگرچہ اس معاملے میں گوگل کو سنگین ترین نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑا تاہم جج نے کمپنی کو کروم، گوگل اسسٹنٹ اور جیمنی ایپ سمیت دیگر مصنوعات کے حوالے سے معاہدے برقرار رکھنے یا نئے معاہدے کرنے سے روک دیا ہے۔ تاہم، اس فیصلے نے گوگل کو دوسری کمپنیوں کو ادائیگی کرنے سے نہیں روکا۔
عدالت نے فیصلہ دیا کہ گزشتہ سال ٹرائل مکمل ہونے کے بعد انٹرنیٹ سرچ انڈسٹری میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، اور اس فیصلے میں عمومی سرچ انجنوں کے ساتھ ساتھ اے آئی سرچ انجن اور چیٹ بوٹس کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد گوگل کے شیئرز میں اضافہ ہوا جبکہ امریکن اکنامک لبرٹیز پروجیکٹ نے اسے مکمل ناکامی قرار دیا۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں امریکی حکومت کی جانب سے گوگل کے خلاف عدم اعتماد کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔