ملک اشرف : کاہنہ سے چھ سال قبل اغوا ہونیوالی خاتون کی عدم بازیابی کامعاملہ، ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو طلب کرلیا ۔
ہائیکورٹ میں کاہنہ کےعلاقے سےچھ سال قبل اغواء ہونیوالی خاتون فوزیہ بی بی کی بازیابی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سائلہ حمیداں بی بی کی درخواست پرسماعت کی۔ سماعت کے دوران سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا، ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمدنوید سمیت دیگر پولیس افسران اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمرکے ہمراہ پیش ہوئے۔ سی سی پی او نے خاتون کی بازیابی کیلئے کیے گئے اقدامات کی رپورٹ پیش کی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس کی کارکردگی پرعدم اطمینان کااظہارکرتے ہوئےریمارکس دیئےکہ ایسی کوئی خاتون نہیں جسے تلاش نہ کیا جا سکے، وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔ بظاہرلگتا ہے کہ آفس میں بیٹھ کر صرف رپورٹیں تیارکی جاتی ہیں۔ سی سی پی او نےکہاکہ مغویہ کے پاس موبائل فون بھی نہیں تھا، جس کی وجہ سے سراغ لگانے میں مشکلات پیش آئیں۔ چیف جسٹس نےاظہارناراضگی کرتے ہوئےکہاکہ ہائیکورٹ کواس معاملے میں نہ لیکر آئیں، اس نے پولیس کونہیں بتانا کہ کس طرح تفتیش کرنی ہے۔عدالت نےمغویہ کی عدم بازیابی پرآئی جی کوطلب کرتے ہوئےسماعت کل تک ملتوی کردی۔