ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے نئے صوبے ناگزیر قرار دیدیے

چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے نئے صوبے ناگزیر قرار دیدیے
کیپشن: File photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے نئے صوبے ناگزیر قرار دیدیے۔

 جامعہ پنجاب میں سمینارسے خطاب   کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  انتظامی امور میں خامیوں کی وجہ سے عوامی فلاح و بہبود کے کام نہیں ہوپارہے۔ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی ضرورت ہے۔ملک میں لوکل گورنمنٹ سسٹم نہیں چل سکا۔

 ایڈمنسٹریٹیو یونٹ کی منتخب اسمبلی، وزیراعلیٰ ہوگا۔صوبے اپنی پاورز شیئر کرنے کیلیے تیار نہیں ہیں۔عوام نئے صوبوں پر متفق ہوگئے تو سیاسی لیڈر بھی اتفاق کرلیں گے۔نئے صوبوں کا قیام عمل میں نہ آنا عوام پر ظلم ہے۔
 انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں 44 فیصد بچے سٹنٹڈ گروتھ کا شکار ہیں جبکہ تقریباً آدھے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا ہی نہیں ملتا، 25 ملین بچے آج سکول نہیں جا رہے اور دنیا میں ہمارے علاوہ کوئی ایسا ملک نہیں جس میں ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہوں۔

 میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان کی آبادی میں 64 فیصد نوجوان شامل ہیں لیکن بڑی تعداد نوکریاں حاصل کرنے سے قاصر ہے، آپ اتنے زیادہ بے روزگار نوجوانوں کا کیا کریں گے؟ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم کس معاشرے میں رہنے جا رہے ہیں۔

 چیئرمین پنجاب گروپ نے کہا ہے کہ دنیا میں ملکوں کا سائز جس طرح بڑھتا گیا انہوں نے خود کو یونٹس میں تقسیم کیا، آزادی کے وقت بھارت کی آبادی 34 کروڑ تھی اور 9 ایڈمنسٹریٹو یونٹس تھے، آج بھارت کی ایک ارب 45 کروڑ کی آبادی ہے، 28صوبے ہیں، 9 یونین ٹیریٹیریز ہیں۔ہم جہاں کھڑے تھے اب بھی وہیں ہیں۔

 چیئرمین پنجاب گروپ نے کہا ہے کہ لاہور ایک ڈویژن ہے اس میں قصور اور شیخوپورہ شامل ہے، اضلاع کو ملا کر ایک ڈویژن بنتا ہے، ہم کہہ رہے ہیں اس ہی کمشنر کو چیف سیکرٹری بنا دیں، ہم کہہ رہے ہیں اس ہی آر پی او کو آئی جی بنا دیں۔

 میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ بار بار سوال ہوتا ہے کہ ڈویژن کو صوبہ بنائیں گے تو 33 صوبے بن جائیں گے، سوال ہوتا ہے 33 صوبوں کے وسائل کہاں سے لائیں گے، ہم نے ریسرچ کی ہے ہر ڈویژن کو صوبہ بنادیں گے تو اخراجات کم ہوں گے بڑھیں گے نہیں، صوبہ 13 کروڑ سے کم ہو کر 3 کروڑ پر آجائے تو ایڈمنسٹریٹو اخراجات بھی کم ہوں گے۔