سٹی42: ’’ایک لاکھ روپے 16 ہزار روپے میں‘‘ فروخت کرنے والے جعساز جعلی کرنسی کی بھاری کھیپ کے ساتھ گرفتار ہو گئے۔
کراچی پولیس نے جعلی کرنسی نوٹوں کا دھندا کرنے والے ایک منظم گروہ کے اڈے پر ریڈ کر کے 60 لاکھ روپے کی جعلی کرنسی برآمد کرلی۔
پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ بھاری مقدار میں جعلی نوٹ مقامی گاہکوں کو فروخت کرنے کے لئے کراچی پہنچائے جا رہے ہیں۔
ملزم کی سڑک پر تلاشی ہوئی۔ تلاشی کے دوران جب بیگ کھولا گیا تو بڑی مالیت کے کرنسی نوٹوں کے درجنوں پیکٹ برآمد ہوئے، ہر پیکٹ میں ایک لاکھ روپے کے نوٹ تھے۔ ان نوٹوں کو جانچنے پر پتہ چلا کہ یہ سب کے سب جعلی ہیں۔ ملزم نے تفتیش میں یہ اعتراف کیا کہ وہ کئی ماہ سے یہ کام کر رہا ہے۔
ایس ایچ او گڈاپ سرفراز جتوئی نے بتایا کہ ’گرفتار ملزم اسفند پشاور کا رہائشی ہے۔‘
پولیس نے اسفند کی گرفتاری کے بعد اپنی تفتیش تیز کر دی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز، موبائل ڈیٹا اور دیگر ریکارڈز کی مدد سے اس نیٹ ورک کے باقی افراد تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسفند کی نشاندہی پر دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کی ٹیمیں پہلے ہی متحرک ہو چکی ہیں اور امکان ہے کہ جلد مزید گرفتاریاں سامنے آئیں گی۔
ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ یہ نوٹ "درہ " (درہ آدم خیل) کے علاقے سے لے کر آیا ہے، جہاں جعلی کرنسی کی تیاری اور تقسیم کا ایک منظم دھندا ہو رہا ہے۔
اس ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ ایک لاکھ روپے مالیت کے جعلی نوٹ 16 سے 17 ہزار روپے میں فروخت کرتے ہیں۔درہ سے جعلی نوٹ کراچی پہنچانے والے ایجنٹ ( کوریئر) کو فی پیکٹ (ایک لاکھ روپے کی جعلی نوٹ) دو ہزار روپے کمیشن دیا جاتا ہے۔ اس بار وہ ساٹھ لاکھ روپے کے نوٹ کراچی لا رہا تھا تو اس لیے اسے ایک لاکھ بیس ہزار روپے معاوضہ ملنے والا تھا۔
اس ملزم کے اعتراف سے یہ سامنے آیا کہ اس دھندے میں منظم نیٹ ورک ملوث ہے۔