ملک اشرف : قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والا مجرم محمد شفیق لاہور ہائیکورٹ سے بری ہوگیا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے محمد شفیق کو باعزت بری کرنے کا حکم دیا۔
جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد، میڈیکل رپورٹ اور گواہوں کے بیانات میں واضح تضادات پائے گئے، جس کے باعث ملزم پر جرم ثابت نہیں ہوتا۔مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق، صدر دیپالپور پولیس نے یکم جولائی 2022 کو محمد مشتاق کے قتل کا مقدمہ درج کیا تھا، جس میں محمد شفیق کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے شواہد کی بنیاد پر محمد شفیق کو سزائے موت سنائی تھی۔وکیل صفائی نے لاہور ہائیکورٹ میں دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ میڈیکل رپورٹ اور چشم دید گواہوں کے بیانات میں واضح تضاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گواہوں کی موقع پر موجودگی ثابت نہیں ہوئی، اور ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باوجود ٹرائل کورٹ نے سزا سنائی۔دوسری جانب مدعی مقدمہ اور سرکاری وکیل نے مجرم کی بریت کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ پولیس تفتیش، گواہوں کے بیانات اور میڈیکل رپورٹ کے مطابق ملزم قصوروار ہے۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ شواہد کمزور اور غیر تسلی بخش ہیں اور گواہوں کی موجودگی مشکوک پائی گئی۔دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس بنا پر عدالت نے مجرم محمد شفیق کی سزائے موت کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دے دیا۔یوں پانچ سال بعد سزائے موت کا قیدی محمد شفیق رہا ہونے کا حقدار قرار پایا۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App