دوستوں کے ہاتھوں دوست کا قتل، معمہ حل، گرفتارملزم سمیت 4 دوست قاتل نکلے
(مبشر حسین) کراچی میں قائدآباد پولیس نے فائرنگ کرکے رینٹ کار سے وابستہ نوجوان عثمان آفریدی کے قتل کا معمہ حل کرلیا، واقعے میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیاگیا۔ گرفتار ملزم نور عالم نے بتایا کے واقعے میں ملوث مزید تین دوست بھی شامل ہیں۔
29 مارچ کی درمیانی شب نوری آباد میں فائرنگ اور قتل کا افسوسناک واقعہ پیش آیا،جس میں عثمان آفریدی نامی نوجوان کو آغواء کے بعد قتل کیا گیا۔ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ علی اور ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق کی جانب سے پولیس کی مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ڈی آئی جی ایسٹ کا کہنا تھا کے ایس ایچ او قائدآباد کو اندھے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے خصوصی ٹاسک دیا گیا۔ ایس ایس پی ملیرکے مطابق پولیس ٹیم نے ٹیکنیکل اور خفیہ معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس حکام کا کہنا تھا گرفتار ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ مقتول عثمان کو شیر پاؤ کالونی سے آغواء کے بعد کراچی سے باہر لے گئے۔گرفتار ملزم کے مطابق مقتول کو نوری آباد کے قریب لے جا کر اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل اور شواہد مٹانے کے غرض سے مقتول پر تیزاب ڈالا گیا۔مقتول عثمان رینٹ اے کار کا کام کرتا تھا۔ملزمان نے قتل کے بعد مقتول کی آلٹو گاڑی اندورن سندھ فروخت کر دی اور حاصل ہونے والی رقم آپس میں تقسیم کر لی۔ملزم نے مزید بتایا کہ واقعہ مبینہ طور پر غیرت کے نام پر پیش آیا،جبکہ مقتول عثمان ہم چاروں دوستوں کا قریبی دوست تھا۔
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم کی شناخت نور عالم ولد گل زمان کے نام سے ہوئی۔گرفتار ملزم نور عالم نے دوران تفتیش مزید بتایا کے واقعے میں ملوث مزید تین دوست بھی شامل ہیں،جن کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔پولیس نے ملزمان کے خلاف تھانہ قائدآباد میں درج کیا تھا۔ قائدآباد پولیس کی جانب سے مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔