ویب ڈیسک: پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج آزادی صحافت کا دن منایا جارہا ہے۔
ورلڈ پریس فریڈم ڈے کا آغاز 1993ء میں ہوا، اس دن کی باقاعدہ منظوری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دی تھی، یہ دن منانے کا مقصد پیشہ ورانہ فرائض کی بجا آوری کے دوران صحافیوں اور صحافتی اداروں کو درپیش مشکلات، مسائل، دھمکی آمیز رویوں اورزندگی کو درپیش خطرات کے متعلق قوم اور دنیا کو آگاہ کرنا ہے۔
پاکستان میں صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون تسلیم کیا جاتا ہے،اس دن کے انعقاد کی ایک وجہ معاشرے کو یہ بھی یاد دلانا ہے کہ عوام کو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرنے کے لیے کتنے صحافی اس دنیا سے چلے گئے اور کئی پس دیوار زنداں ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں دنیا تک حقائق پہنچانے کی جدو جہد میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے میڈیا ورکرز کو ان کی قربانیوں پر خراج تحسین پیش کیا، وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
محمد شہبازشریف کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا کو جھوٹ، فیک نیوز، پروپیگنڈے، غیر ملکی ایجنڈوں اور سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کے خلاف غلط اطلاعات کا پھیلاؤ، نفرت پر مبنی اظہار اور جان لیوا حملے دنیا بھر میں آزادی صحافت کیلئے خطرہ ہیں۔