ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاکھوں پاکستانی بیرون ممالک میں موجود، ہماری کوشش ہے کہ جہاں جہاں پاکستانی پھنسے ہوں انکو مدد فراہم کی جائے؛ اسحاق ڈار

ہم کسی بھی حوالے سے اپنا ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ حل ہو ؛ اسحاق ڈار

لاکھوں پاکستانی بیرون ممالک میں موجود، ہماری کوشش ہے کہ جہاں جہاں پاکستانی پھنسے ہوں انکو مدد فراہم کی جائے؛ اسحاق ڈار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کیساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے  پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ کویت میں 1 لاکھ 2 ہزار , عمان میں 3 لاکھ 82 ہزار , بحرین میں 134 ہزار , متحدہ عرب امارات میں 2.1 ملین  ,قطر میں ساڑھے تین لاکھ پاکستانی ہیں ، سعودی عرب میں 25 لاکھ پاکستانی موجود ہیں, ایران میں کل تعداد 35 ہزار پاکستانیوں  کی موجود ہے ۔ جن کوواپس لانے کی کوشش کی جار رہی ہے ۔ 

نائب وزیراعظم  اسحاق ڈار نے کہا کویت میں 1 لاکھ 2 ہزار پاکستانی ہیں ۔  کویت میں بھی پاکستانی مشن آپریشنل ہیں ۔ عمان میں 3 لاکھ 82 ہزار پاکستانی ہیں ۔ بحرین میں 134 ہزار پاکستانی ہیں، بحرین کے ساتھ لینڈ ٹرانزٹ ویزہ سعودی عرب کے ذریعے ہوا ہے ۔ بحرین، عمان اور اردن میں کوئی سٹرینڈڈ کیس نہیں ہے ۔ایرانی ہم منصب کو بھی بتایا کہ سعودی عرب کو  مذہبی  لحاظ سے دیکھا جائے ۔ عمان نے ایران اور امریکہ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا، 

عمان پر بھی ڈرون حملہ کیا گیا ۔جب ایران پر حملہ ہوا تو میں سعودی عرب تھا، میری واپسی عمان کی ائیر سپیس کی ذریعے ہوئی ۔آذربائیجان حکومت اس وقت پورا سپورٹ دے رہی ہیں ۔اب تک 64 پاکستانی اب تک آذربائیجان پہنچ چکے ہیں ۔20 پاکستانی آج باکو کو کراس کریں گے ۔

متحدہ عرب امارات میں 2.1 ملین پاکستانی موجود ہیں ۔تقریباً 4 ہزار پاکستانی جو ویزٹس یا میٹنگز وغیرہ کیلئے گئے تھے ۔ ایران پر امریکی حملے کی سب سے پہلے ہم نے مزمت کی۔مسلم ممالک میں میرے خیال میں صرف ہم ہے جنہوں نے ایران پر امریکی حملے کی مزمت کی ۔ ایران نے خلیج ممالک میں امریکی بیسسز کو نشانہ بنایا۔ 

متحدہ عرب امارات میں ایران حملے میں ایک پاکستانی بھی شہید ہوا ہے ۔میزائل صرف امریکی بیسسز پر نہیں بلکہ شہری علاقوں اور ائیرپورٹ پر سے گرے ہیں ۔جو مغرب یا یورپ میں رہنے والے پاکستانی خلیج پھنسے ہیں ان کیلئے بھی مشن کھلا ہے ۔قطر میں ساڑھے تین لاکھ پاکستانی ہیں ۔جو وزیٹ ویزہ یا کوئی میٹنگ وغیرہ کیلئے گئے لوگوں کی تعداد تقریباً 1400 ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور قطر میں بھی ہمارے مشنز کھلے ہیں ۔ہم قطر اور متحدہ عرب امارات کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔عراق میں بڑی تعداد میں پاکستانی زائرین پھنس چکے ہیں ۔

ہماری کوشش ہے کہ جہاں جہاں پاکستانی پھنسے ہوں انکو مدد فراہم کی جائے ۔ سعودی عرب میں 25 لاکھ پاکستانی موجود ہیں۔ سعودی عرب باقی ممالک کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔جب ایران پر حملہ ہو تو میری ایرانی ہم منصب سے ٹیلیفونک بات ہوئی ۔ایرانی وزیر خارجہ کو بتایا کہ سعودی کیساتھ ہمارا دفاعی معاہدہ ہے ۔ ایران کو آگاہ کیا تھا کہ سعودی ائرسپیش یا زمین ایرنا کیخلاف استعمال نہیں ہوگی ۔تہران، مشہد اور زاہدان میں ہمارے سنٹرز فعال ہیں ۔ سعودی عرب میں ریاض میں سفارتخانہ بھی ایکٹیو ہے ۔جدہ میں پاکستانی قونصلیٹ بھی ایکٹیو ہے اور تفصیلات ویب سائٹ پر موجود ہیں ۔ متحدہ عرب امارات،  قطر اور کویت میں بھی ہمارے سفارتخانے فعال ہیں ۔سپیشل فیسلیٹیشن سنٹر کا مقصد پھنسے پاکستانیوں کی مدد کرنا ہے ۔ ایران کے ناردرن قریب آذربائیجان بارڈ سے متعلق آذربائیجانی حکومت سے بات ہوئی ۔ ایران سے جانے والے پاکستانیوں کو آذربائیجانی حکومت ویزہ دیں گی، ایران میں کل تعداد 35 ہزار پاکستانیوں کی ہیں۔ ایران سے اب تک 792 پاکستانی واپس آ چکے ہیں300 سے اوپر ایرانی شہری جو پاکستان کا ویزہ رکھتے ہیں واپس آئے ہیں۔

اب تک ایران کے مختلف علاقوں سے تقریباً 14 سو کے لگ بھگ لوگ واپس پاکستان پہنچ چکے ہیں ۔ ایران اور خلیج ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کے حوالے سے پھنس چکے ہیں۔ ایران اور خلیج میں پھنسے پاکستانیوں کے حوالے سے وزیراعظم کی ہدایت پر بریف کر رہا ہوں ۔ ایران اور گلف کے کچھ ممالک کے فضائی راستے بند ہیں ۔ بحرین اور عرب امارات و دیگر ممالک کے درمیان بذریعہ سڑک پاکستانی مدینہ پہنچ رہے ہیں۔وزارت خارجہ میں کرائسسز منجمنٹ سیل فغال ہے۔پاک بھارت جنگ میں اس کرائسسز منجمنٹ سیل کو بنایا تھا اور آج بھی فعال ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا ہم ایران کے انتہائی قریبی پڑوسی ہے ۔خطے میں جاری جنگ سے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے پر ہونگے،ہماری کوشش ہیں کہ فریقین بیٹھ کر مزاکرات کریں، جب مزاکرات پازیٹو جارہےتب کیا مجبوری تھی کہ حملہ ہوا، یہ پاکستان تو نہیں بتا سکتا، چینی سفیر سے ملاقات اسی ایران امریکا کشیدگی تناظر میں تھی،چین کیساتھ ہمارا قریبی رابطے ہیں تو اس موضوع پر بھی قریبی رابطے میں رہنے پر زور دیا، غزہ پیس آف بورڈ کے حوالے سے 8 مسلم ممالک نے انیشٹیو لیا تھا،گروپ آف 8 غزہ میں امن، بحالی سمیت بہتری کیلئے کام کررہے ہیں۔گروپ آف 8 غزہ میں جنگ بندی اور دو ریاستی حل کیلئے کوشاں ہیں،8 مسلم ممالک کی کوشش تھی کہ غزہ کے اندر خوراک دوائیں کی اجازت دی جائے، ہماری قراداد پر یو این سیکورٹی کونسل نے بورڈ آف پیس اور آئی ایس ایف کو مرج کیا، 

19 فروری کو بورڈ آف پیس میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم شہباز شریف نے کی، غزہ معاہدے کی اسرائیل نے جب جب خلاف ورزی کی آٹھ مسلم ممالک مشترکہ مزمت کرتے ہیں،

اسحاق ڈار کے مطابق ایران کہہ رہا کہ ہم نے ان ممالک کے اوپر نہیں بلکہ امریکی بیسسز پر حملے کئے، پاکستان کیساتھ الحمداللہ ایسا کچھ نہیں کیونکہ پاکستان اس معاملے میں فریق نہیں ہے، خطے میں جنگ کی وجہ سے معاشی صورتحال پورے خطے کیلئے خراب ہوگا، ایران امریکا مزاکرات کیلئے پاکستان نے میزبانی کی آفر دی تھی، ایران اور امریکہ کے مذاکرات گزشتہ سال عمان اور اسلام آباد میں کرنے پر متفق ہوئے تھے، ہم صرف مذاکرات چاہتے ہیں جہاں بھی کریں بس مزاکرات کریں،حالیہ مذاکرات بھی جینوا میں عمان کے سفارتخانہ میں ہوئے تھے،8 مسلم ممالک کا گروپ نہایت فعال طریقے سے کام کر رہا ہے۔ہم فلسطین کے دو ریاستی، 1967 سے پیشگی، القدس بطور دارلحکومت کے لیے کام کر رہا ہے۔یہ 8 مسلم ممالک غزہ کی ناکہ بندی کےخاتمے، ادویات و خوراک تک رسائی، سمیت فلسطینیوں پر جارحیت رکوانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔جب بھی اسرائیل کی جانب سے کوئی خلاف ورزی ہوتی ہے ہم تمام مسلم ممالک مل کر بیان دیتے ہیں،ہم نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے غیرقانونی انضمام پر فوری مشترکہ موقف دیا۔ہم اس سارے تنازعہ میں براہ راست فریق نہیں ہیں۔تاہم اس صورتحال کا اثر دنیا کے دیگر ممالک سمیت پاکستان پر بھی پڑے گا ۔ ہم کسی بھی حوالے سے اپنا ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ حل ہو ۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا لوگوں ایجوکیٹ کریں کہ ہم علیحدہ علیحدہ نہیں ہے پاکستان سب کا ہے،کل تمام پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈرز کو وزیراعظم کی سربراہی میں بریفننگ دیں گے، چینی بھی یہی چاہتے ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہو تناو کو روکا جائے،۔ وہ چاہتے ہیں کہ اب سب فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔ 

اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران پر جب حملہ ہوا تو میں نے سعودی عرب سے ایران کے ساتھ رابطہ ہوا .گزشتہ تین دنوں میں ترکی، مالدیپ، بنگلہ دیش، ازبکستان، سعودی عرب کے وزراء سے رابطے کئیے، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، عراق، یورپی یونین، بحرین اور آذربائیجان کے وزراء سے رابطے کئیے، ایران پر پچھلے سال جب حملہ ہوا تو ہم نے تب بھی اپنا کردار ادا کیا تھا،اس بار بھی ہمارے جو رابطے ہورہے ہیں وہ مزاکرات کی میز پر آنے کیلئے ہیں، جب انڈیا نے ہم پر حملہ کیا تو ہم نے جوابی حملہ کیا،انڈیا کے ساتھ چار روزہ جنگ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیابی دی،میرے سے زیادہ وزیراعظم پاکستان کے رابطے ہیں، ہم ان سب کو مشورہ دے رہے ہیں کہ حملہ نہ کریں بلکہ مزاکرات کریں، 

تمام فریقوں کو مذاکرات کے ٹیبل پر لانے کی ہماری کوشش جاری ہے، سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ائی کی شہادت پر وزیراعظم اور صدر پاکستان نے اظہارِ افسوس کیا.سابق وزیراعظم نواز شریف، بلاول زرداری اور پورے پاکستان نے مزمت کی، ہمیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ یہاں احتجاج کس بات کی ہے؟وزیر اعظم، فیڈل مارشل یا میرے ساتھ جب بھی ایرانی قیادت بیٹھتی ہیں تو ہمارا شکریہ ادا کرتے ہیں، ایرانی پارلیمان میں شکریہ پاکستان کے نعرے لگے تھے، میڈیا کی زمہ داری بنتی ہے کہ کلئیرٹی دیں کہ یہ احتجاج کس بات کی ہے ؟ ایران پاکستان سے خوش ہیں تو احتجاج کس بات کی؟ پاکستانیوں کی جان مال کا تحفظ ہم سب کی مجموعی ذمہ داری ہے،۔ 

اس وقت ایران اور خلیج ممالک میں 4.5 ملین پاکستانی موجود ہیں،ہر جگہ ہمارے مشنز موجود ہیں اور پھنسے پاکستانیوں کو سہولیات بھی مہیا کررہے ہیں، سعودی عرب، بحرین، کویت، قطر، امارات اور ایران کا شکریہ ادا کرتا ہوں، تمام ممالک ہمارے ساتھ بہت سپورٹیو ہیں، میں پاکستان کی طرف سے انکا مشکور ہوں،میں وزارتِ خارجہ کے متعلقہ ڈیسکس، سفارت خانہ، قونصلیٹ کے عملے کو شاباش دیتا ہوں، ہم نے افغان قیادت کو باور کرایا کہ افغان سرزمین دیگر ممالک کے خلاف نہ استعمال ہونے دی جائے

ہم نے افغان حکومت کو بتایا کہ یہ سب معاملات خود ان کے لئے بھی ٹھیک نہیں ہیں۔ہم اپنے جوانوں کے مزید جنازے نہیں اٹھا سکتے۔ہم نے 2014 میں دہشت گردی کو ختم کر دیا تھا۔کون کابل میں کپ آف ٹی پی رہا تھا ۔موجودہ حکومت  وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس سٹاف دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں

کسی ملک میں رجیم چینج کا نہ ہماری خواہش ہے اور نہ ہی کرداریہ فیصلہ ایرانی عوام کا ہے کہ وہ جسے بھی منتخب کریں، ۔ ایران میں گزشتہ سال پرامن احتجاج شروع ہوا تھا، 

عباس اقراچی کے بقول پرامن احتجاج میں دہشت گرد گھسے اور پرتشدد واقعات ہوئے،بقول عباس اقراچی کے پرتشدد واقعات میں سرکاری املاک سمیت لوگوں کو زبح کرگئے، افغانستان کیساتھ اچھے تعلقات کی ہم نے پوری کوشش کی،19 اپریل کو میں خود گیا، پھر وزیر دفاع اور وزیر داخلہ بھی گئے،ہم نے افغانستان کو آذربائیجان کیساتھ ریلوے ٹریک معاہدے میں شامل کیا، افغانستان کے اندر امیر متقی کیساتھ لائیو پریس کانفرنس کی، جو دنیا نے دیکھی،افغانستان، پاکستان اور ازبکستان ریلوے ٹریک معاہدہ ہوا، اگست میں چین کی درخواست پر کابل میں سہہ فریقی اجلاس میں شرکت کی،ہم نے صرف اتنا کہا کہ ان دہشت گردوں کو افغان سرزمین استعمال نہ ہونے دیں،افغانستان ہمارا ہمسایہ اور مسلمان ملک ہے، ہمیں انکی ترقی پسند ہے،میں نے افغان طالبان قیادت کے منہ پر کہا تھا کہ یہ لوگ آپ پر بھی آئیں گے، ہر ہفتے ہمارے جوانوں کی جنازے اٹھ رہے تو ہم برداشت تو نہیں کریں گے، آخری دہشت گرد تک ہمارا جنگ جاری رہے گا، دہشت گردی کا صفایا ہوچکا تھا، ایک شخص کی چائے کے پیالہ نے سب کچھ تہس نہس کردیا، افغانستان کو ہمارے ساتھ ملکر دہشت گردوں کو ختم کرنا ہوگا۔