ملک اشرف : لاہور ہائی کورٹ نے عثمان ڈار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے نو صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جس میں قرار دیا گیا کہ درخواست گزار کا نام بغیر کسی ٹھوس وجوہات بتائے اور پیشگی نوٹس دیے بغیر ای سی ایل میں شامل کیا گیا، جو آئین میں دی گئی نقل و حرکت کی آزادی کے بنیادی حق کے منافی ہے۔عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ کسی بھی شہری کو بیرون ملک سفر سے روکنے کے لیے شفاف اور قانونی طریقہ کار اختیار کرنا لازم ہے۔ بغیر وجوہات اور سنے بغیر نام ای سی ایل میں شامل کرنا قانونی تقاضوں کے برعکس ہے، لہٰذا یہ اقدام غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ درخواست گزار کا نام فوری طور پر ای سی ایل فہرست سے نکالا جائے۔ تاہم فیصلے میں چند شرائط بھی عائد کی گئی ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ عثمان ڈار ٹرائل کورٹ میں اپنی حاضری یقینی بنائیں گے اور دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروائیں گے۔فیصلے میں مزید واضح کیا گیا کہ اگر درخواست گزار عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالیں، ضمانت کا ناجائز فائدہ اٹھائیں یا قانونی عمل سے گریز کریں تو متعلقہ حکام قانون کے مطابق ان کا نام دوبارہ ای سی ایل میں شامل کرنے کے مجاز ہوں گے۔
واضح رہے کہ عثمان ڈار نے اپنا نام ای سی ایل سے خارج کرانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست منظور کرتے ہوئے تفصیلی وجوہات پر مبنی فیصلہ جاری کیا.