ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

گرین شرٹس یا بلیو شرٹس؛ مہان کون ہے، جاننے کا فارمولا سامنے آ گیا

Pakistan vs India, Saqlain Mushtaq, City42 , Green Shirts
کیپشن: ثقلین مشتاق  کا بھارت کو پاکستان کے ساتھ تینوں فارمیٹس مین دس دس میچوں کی سیریز کھیلنے کا چیلنج دونوں ملکوں میں کرکٹ کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن بھارت کا کرکٹ بورڈ جو کئی برس سے جان بوجھ کر پاکستانی کرکٹ ٹیم کا سامنا کرنے سے فرار حاصل کرنے کے بہانے تلاش کرتا آ رہا ہے، اس کے لئے اس سیدھے سادے چیلنج کو قبول کرنا آسان نہین ہو گا کیونکہ ایسا ہوا تو   چند ہی ہفتوں مین پاکستان کی ٹیم اپنی بالادستی منوا لے گی، 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  ویٹرن کرکٹر ثقلین مشتاق نے کرکٹ میں انڈیا پوجا کروانے والے نام نہاد ایکسپرٹس، بھارتی کرکٹ ٹیم اور بھارت کے بورڈ پر  پر چند سادہ جملوں سے ایسی بجلی گرائی کہ نظر کو دھوکا دینے والا مصنوعی تاثر آن واحد میں جلا کر بھشم کر ڈالا.

ثقلین مشتاق نے بھارت کی کرکٹ ٹیم کے منتظمین اور پلئیرز کو چیلنج دیا کہ اگر بھارتی ٹیم خود کو واقعی ایک بہترین ٹیم سمجھتی ہے تو پاکستان کے ساتھ  10 ٹیسٹ، 10 ون ڈے اور 10 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے؛ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ بہترین کون ہے، حقیقت  دنیا کے سامنے آ جائے گی۔

ثقلین مشتاق کے سادے اور سٹریٹ فارورڈ فارمولا کو انڈیا کا کرکٹ بورڈ تسلیم کر لے تو پاکستان اور انڈیا مین دونوں کرکٹ ٹیموں کے تقابل کے نام پر جہالت بگھار کر روٹی کمانے والے بہت سے نام نہاد ایکسپرٹس کی دوکانداریاں ٹھپ ہو جائین گی اور فینز  دونوں ٹیموں کے  تینوں فارمیٹس مین دس دس میچوں کی پرفارمنس دیکھ کر خود  ان ٹیموں کے ایکسپرٹ ہو جائیں گے اور سب کو پتہ چل جائے گا کہ گرین اور بلیو شرٹس میں کون کیا ہے۔ 

سادہ گو ویٹرن کرکٹر ثقلین مشتاق نے کہا اگر ہم سیاست کو ایک طرف رکھیں تو  بظاہربھارتی کھلاڑی واقعی اچھے ہیں،  وہ بہتر کرکٹ کھیل رہے ہیں جبکہ پاکستان کی ٹیم کو اس وقت کئی مسائل کا سامنا ہے۔ لیکن ا تیاری بہتر ہو اور صحیح سمت میں کام کیا جائے تو قومی ٹیم بھارت سمیت دنیا بھر کو مضبوط جواب دے سکتی ہے۔

ثقلین مشتاق کے اس چیلنج نے  نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بھارت کرکٹ ٹیم کی پوجا کروانے والے  ایکسپرٹ اب منہ چھپاتے پھر رہے ہیں اور ثقلین مشتاق کے سٹریٹ فارورڈ چیلنج پر بات کرنے سے کترا رہے ہیں۔ 

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے گروپ اسٹیج میں ہونے والے مقابلے میں بھارت نے پاکستان کو  ہرا دیا تو  بھارت پوجا کروانے والے ایکسپرٹس نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں اور آفیشلز  نے یکسر نا اہل قرار دے دے کر ان سب کا جینا دوبھر کر دیا۔

پاکستان اور انڈیا کی کرکٹ ٹیموں کو گزشتہ کئی برسوں میں ایک دوسرے سے کھیلنے کے مواقع کم ملے ہیں۔ پاکستاان میں کرکٹ پہلے تو سری لنکا کی ٹیم پر لاہور میں خوارجی فتنہ گر دہشتگردوں کے حملے کے بعد پاکستان مین انٹرنیشنل کرکٹ بند کونے سے بری طرح متاثر ہوئی، پھر  سابق کرکٹر  عمران خان کی وزارتِ عظمیٰ میں ڈومیسٹک کرکٹ کو تباہ و برباد کر دیئے جانے سے بھی کرکٹ بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ اب  گزشتہ چند سال میں پاکستان کرکٹ بورڈ از سر نو کرکٹ کو استوار کر چکا ہے، ڈومیسٹک کرکٹ سے نئے کھلاڑی سامنے آ رہے ہیں اور ٹیموں کی سیلیکشن کے عمل مین پروفیشنلزم کو واحد ترجیح بنایا جا رہا ہے۔

ثقلین مشتاق  کا بھارت کو پاکستان کے ساتھ تینوں فارمیٹس مین دس دس میچوں کی سیریز کھیلنے کا چیلنج دونوں ملکوں میں کرکٹ کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن بھارت کا کرکٹ بورڈ جو کئی برس سے جان بوجھ کر پاکستانی کرکٹ ٹیم کا سامنا کرنے سے فرار حاصل کرنے کے بہانے تلاش کرتا آ رہا ہے، اس کے لئے اس سیدھے سادے چیلنج کو قبول کرنا آسان نہین ہو گا کیونکہ ایسا ہوا تو   چند ہی ہفتوں مین پاکستان کی ٹیم اپنی بالادستی منوا لے گی،