رائو دلشاد:پنجاب میں ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیز کی ریگولیشن کے لیے تیار کیا گیا ترمیمی بل، متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹی سے منظوری کے باوجود 10 ماہ گزرنے کے بعد بھی پنجاب اسمبلی سے منظور نہ ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز (ترمیمی) بل 2025 کو گزشتہ سال ستمبر میں متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹی نے منظور کیا تھا، تاہم حکومتی عدم دلچسپی کے باعث اسے اب تک پنجاب اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا گیا۔
یہ بل حکومتی رکن پنجاب اسمبلی امجد علی جاوید نے بطور پرائیویٹ ممبر پیش کیا تھا، جبکہ اسٹینڈنگ کمیٹی نے دو ماہ کی ورکنگ کے بعد اس کی منظوری دے دی تھی۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دس ماہ کے دوران پنجاب اسمبلی کے درجنوں اجلاس منعقد ہوئے، مگر مجوزہ بل کو منظوری کے لیے ایوان کے ایجنڈے پر نہیں لایا گیا۔
مجوزہ قانون کے تحت متعلقہ اداروں کو پرائیویٹ ٹیوشن سینٹرز، کوچنگ سینٹرز اور اکیڈمیز کی رجسٹریشن، نگرانی اور ریگولیشن کا پابند بنایا جائے گا، جبکہ پہلی بار نجی اکیڈمیز، کوچنگ سینٹرز اور ٹیوشن سینٹرز کو قانونی طور پر "ادارہ" قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
بل کے مطابق "ادارہ" کی تعریف میں اسکول، کالج، اکیڈمی، کوچنگ سینٹر اور ٹیوشن سینٹر شامل ہوں گے، جبکہ حکومت کو رجسٹریشن، نگرانی اور ریگولیشن کے لیے جامع نظام وضع کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
مجوزہ قانون کا مقصد بغیر ریگولیشن کام کرنے والے نجی تعلیمی مراکز کو قانونی دائرہ کار میں لانا، طلبہ، والدین، اساتذہ اور نجی تعلیمی اداروں کے مفادات میں توازن قائم کرنا ہے۔ بل کے تحت قانون کے نفاذ کی تاریخ حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے مقرر کرے گی۔
دوسری جانب وزیر تعلیم نے اعلان کیا کہ لاہور میں 760 اکیڈمیز بند کی جا رہی ہیں، جبکہ صوبے بھر کے 13 ہزار اسکولوں کو عمارتوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ستمبر سے کھلنے والے ہر نئے اسکول کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا۔
انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں میں داخل نہ کروائیں۔ وزیر تعلیم نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ 30 جون کو سمر کیمپ ختم ہونے کے باوجود اسکول میں سمر کیمپ کیوں جاری تھا۔
رانا سکندر حیات نے بتایا کہ واقعے میں غفلت برتنے پر 2 ڈپٹی ڈی ای اوز اور 2 اے ای اوز کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔