ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلاء کی ایک بڑی تعداد کروڑوں روپے کے واجبات کی نادہندہ نکل آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق 4700 سے زائد وکلاء 2 کروڑ 43 لاکھ روپے سے زیادہ کے واجبات ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث انہیں آئندہ لاہور ہائیکورٹ بار کے انتخابات میں ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ واجبات ادا نہ کرنے والے نادہندہ وکلاء میں خواتین وکلاء بھی شامل ہیں، جبکہ بار کے قواعد و ضوابط کے مطابق سالانہ ایک ہزار روپے فیس ادا نہ کرنے والے وکلاء حقِ رائے دہی استعمال نہیں کر سکیں گے۔,بار انتظامیہ کے مطابق گزشتہ سال 2025 کے دوران 757 وکلاء نے اپنے ذمہ واجب الادا رقوم جمع کروائیں، جس کے بعد انہیں اہل ووٹرز کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ تاہم اب بھی ہزاروں وکلاء پر واجبات باقی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق اس وقت لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں لائف ممبرز کی تعداد 41 ہزار سے زائد ہو چکی ہے، تاہم واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث ایک بڑی تعداد انتخابی عمل سے باہر ہو گئی ہے۔بار ذرائع کا کہنا ہے کہ شفاف اور منظم انتخابات کے انعقاد کے لیے واجبات کی ادائیگی کو لازمی قرار دیا گیا ہے، اور قواعد کے مطابق صرف وہی وکلاء ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے جنہوں نے اپنی تمام مالی ذمہ داریاں بروقت پوری کی ہوں۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے سالانہ انتخابات کے قریب آتے ہی انتخابی ماحول بتدریج گرم ہوتا جا رہا ہے، جبکہ نادہندہ وکلاء کی بڑی تعداد کے باعث انتخابی نتائج پر بھی اثر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App