ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

یوٹیوبر رجب بٹ پر تشدد اور وکلا کے خلاف مقدمات کا تنازع شدت اختیار کر گیا

یوٹیوبر رجب بٹ پر تشدد اور وکلا کے خلاف مقدمات کا تنازع شدت اختیار کر گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ممتاز جمالی:یوٹیوبر رجب بٹ پر مبینہ تشدد اور وکلا کے خلاف مقدمات کے اندراج کا تنازع شدت اختیار کر گیا,  پنجاب بار کونسل کی جانب سے رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ کا لائسنس معطل ہونے کے بعد فریقین کے درمیان قانونی جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔

اس سلسلے میں ریاض سولنگی ایڈووکیٹ اور فتح چانڈیو ایڈووکیٹ کے خلاف سندھ بار کونسل میں دو الگ الگ درخواستیں جمع کرا دی گئی ہیں۔ یہ درخواستیں میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ اور دیگر وکلا کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ رجب بٹ نے رضاکارانہ طور پر عدالت میں پیش ہو کر عبوری ضمانت حاصل کی، تاہم 29 دسمبر کو سٹی کورٹ کراچی پہنچنے پر شکایت کنندہ ریاض سولنگی ایڈووکیٹ، فتح چانڈیو ایڈووکیٹ اور ان کے ساتھی وکلا نے منظم انداز میں رجب بٹ پر تشدد کیا۔

درخواست کے مطابق تشدد کے دوران رجب بٹ سے ان کا بیگ چھین لیا گیا، جو بعد میں تو واپس کر دیا گیا، تاہم اس میں موجود تین لاکھ روپے نقد رقم غائب تھی۔ مزید کہا گیا کہ رجب بٹ کے ساتھ ساتھ وکلا کو بھی ہراساں کیا گیا اور انہیں اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔

درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ عدالتی احاطے میں ہنگامہ آرائی کے بعد رجب بٹ کو کراچی بار کے دفتر لے جایا گیا، جہاں کسی عہدیدار کی موجودگی کے بغیر دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

درخواست گزاروں کے مطابق تشدد میں ملوث وکلا کے اقدامات پیشہ ورانہ بدانتظامی اور عدالتی کارروائی میں رکاوٹ کے زمرے میں آتے ہیں اور یہ لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل ایکٹ اور بار کونسل رولز کی صریح خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ریاض سولنگی ایڈووکیٹ، فتح چانڈیو ایڈووکیٹ اور دیگر ملوث افراد کے خلاف فوری تادیبی کارروائی شروع کی جائے، حتمی فیصلے تک ان کے وکالت لائسنس معطل کیے جائیں اور متعلقہ بار ایسوسی ایشن سے مکمل ریکارڈ اور وضاحت طلب کی جائے۔

درخواست میں اس تشویش کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ عدالتی احاطوں میں سائلین اور حراست میں موجود ملزمان کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عدلیہ کے تقدس اور سائل کے تحفظ پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔درخواست گزاروں کے مطابق اس واقعے نے وکالت کے پیشے کو شدید عوامی تنقید کی زد میں ڈال دیا ہے، جبکہ سائل پر تشدد کے باوجود سندھ بار کونسل کی خاموشی بھی انتہائی تشویشناک قرار دی گئی ہے۔