ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور: پتنگوں کی تیاری کےعمل میں تیزی،ڈیمانڈزیادہ وقت کم

لاہور: پتنگوں کی تیاری کےعمل میں تیزی،ڈیمانڈزیادہ وقت کم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42:لاہور شہر میں کئی سال بسنت کی واپسی پر جہاں  شہریوں کا جوش ہو خروش آسمان پر ہے  وہیں اسکے قریب آتےہی  پتنگوں کی تیاری کےعمل میں بھی مزیدتیزی آگئی ہے۔

شہری بسنت کاتہوارمنانےکیلئےبازاروں میں پتنگ کی خریداری میں مصروف ہیں جبکہ مارکیٹ میں پوناتاوااورایک تاوےکی ڈیمانڈمیں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔

گڑھی شاہو، باغبانپورہ، شام نگر اور موچی گیٹ سمیت مختلف علاقوں کی گلی محلوں میں قائم پتنگوں کی دکانوں پر بچوں اور نوجوانوں کا رش لگا ہوا ہے۔ دکانوں پر بڑی بڑی پتنگیں نصب کر دی گئی ہیں جبکہ پتنگ سازی کے سامان کی فروخت میں بھی واضح اضافہ ہوا ہے۔ لاہور کے بازاروں کی رونقیں بڑھ چکی ہیں اور شہر کا آسمان ایک بار پھر رنگین ہونے کو تیار نظر آتا ہے۔

اوپن مارکیٹ میں پتنگوں کے نرخوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پونا تاوا 150 سے 200 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ ایک تاوا کا ریٹ 400 سے 500 روپے مقرر ہے۔ ڈیڑھ تاوا گڈا سب سے مہنگا فروخت ہونے والا گڈا ہے، جس کی قیمت 600 سے 800 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ بعض علاقوں میں ڈیڑھ تاوا گڈا 500 سے 700 روپے میں بھی فروخت ہو رہا ہے۔

باغبانپورہ میں مختلف اقسام کی پتنگوں کی قیمتیں کچھ اس طرح ہیں کہ شرلا 80 روپے، پری 100 روپے، آڈا 120 روپے اور پونا تاوا 200 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ ایک تاوا بعض دکانوں پر 300 روپے جبکہ اوپن مارکیٹ میں 400 سے 500 روپے میں دستیاب ہے۔

پتنگوں کے ساتھ ساتھ ڈور کی مانگ میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ دکانداروں کے مطابق ڈور کی طلب اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ پوری کرنے سے قاصر ہیں، جس کے باعث ڈور کی قیمت 9 سے 10 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔دکانداروں کا کہنا ہے کہ پتنگوں کی ڈیمانڈزیادہ ہے اورتیاری کےلئےوقت بہت کم ہے لیکن کوشش ہے کہ ہر ایک بسنت کا تہورا منا سکے۔

انتظامیہ کی جانب سے بسنت کے موقع پر واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ قواعد کے مطابق بسنت پر صرف ساڑھے چار کھٹی پتنگ اور ڈیڑھ تاوا گڈا اڑانے کی اجازت ہو گی۔ صرف کاٹن دھاگے کی ڈور کے استعمال اور فروخت کی اجازت ہے، جبکہ جان لیوا دھاتی تار، نائلون، کیمیکل یا شیشہ لگی مانجے پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔خلاف ورزی کی صورت میں 3 سے 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ پابندی کی خلاف ورزی پر مینوفیکچررز، فروخت کنندگان اور استعمال کرنے والوں کے خلاف یکساں کارروائی کی جائے گی۔