باغوں اور کالجوں کا شہر دھرنوں اور احتجاج کا شہر بن گیا

باغوں اور کالجوں کا شہر دھرنوں اور احتجاج کا شہر بن گیا

(قیصر کھوکھر) لاہور کی تاریخی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، جہاں یہ کبھی سیاحوں کیلئے جنت تھا وہیں اِسے باغوں اورکالجوں کا شہربھی کہا جاتا ہے، لاہور کے باغ اور پارکس اپنی مثال آپ ہیں، یہاں کے تعلیمی ادارے نہ صرف پنجاب بلکہ ملک بھرسے طلبہ کیلئے کشش رکھتے ہیں، مگر اب لاہورکی شناخت تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

لاہور دھرنوں، مظاہروں اور احتجاجوں کا شہربن چکا ہے، کبھی اساتذہ سراپا احتجاج ہیں تو کبھی ڈاکٹر سڑکیں بند کر دیتے ہیں، کبھی وکلاء عدالتوں کی تالا بندی کر دیتے ہیں تو کبھی مزدور حق مانگ رہے ہوتے ہیں، کبھی طلبہ مظاہرہ کرتے ہیں تو کبھی تاجر ہڑتال کر دیتے ہیں۔

 کبھی کلرک قلم چھوڑہڑتال کرتے ہیں تو کبھی نابینا افراد حق مانگتے دکھائی دیتے ہیں، کوئی پولیس کیخلاف سراپا احتجاج ہوتا ہے، تو کوئی لاش روڈ پر رکھ کر ٹریفک بلاک کر دیتا ہے، لاہورمیں آئے روز ہونے والے مظاہروں سے مکینوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

صرف مال روڈ پر احتجاج ہونے سے آدھے لاہور کی ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، جبکہ دفاتر اور سکول کالج جانے والے ملازمین و طلبا کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، احتجاج ہمیشہ اس وقت ہوتا ہے جب کسی کی حق تلفی ہو، اگر حکومت ایسا میکانزم بنا دے کہ شہریوں کو ان کے حقوق ملتے رہیں تو مظاہروں کی نوبت ہی نہ آئے

Sughra Afzal

Content Writer