ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کوہستان؛ برف پوش پہاڑوں سے 28 سال قبل گمشدہ ہونیوالی لاش صحیح حالت میں برآمد

کوہستان؛ برف پوش پہاڑوں سے 28 سال قبل گمشدہ ہونیوالی لاش صحیح حالت میں برآمد
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : قدرت کے قانون فطرت کے مطابق برف میں چیزیں مدتوں محفوظ رہتی ہیں، ایسی ہی ایک خبر کوہستان کے برف پوش پہاڑوں سے سامنے آئی ہے، جہاں برف کے گلیشیر سے 28سال  قبل لاپتہ ہونے والی لاش صحیح حالت میں بر آمد ہوئی ہے۔ 

نذیرالدین ولد بہرام (قوم صالح خیل) کی نعش 28 سال بعد لیدی پالس کے گلیشیئر سے صحیح حالت میں برآمد ہوئی ہے۔ وہ 28 سال قبل برفانی طوفان کی نذر ہو کر لاپتا ہو گئے تھے۔ نعش پر وسکٹ موجود تھی، اور جیب سے شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا، جس سے ان کی شناخت ممکن ہوئی۔

28 سال بعد کوہستان کے علاقے بر پالس، لیدی گلیشئر کے قریب سے نصیرالدین عرف ہجو ولد بہرام کی لاش برآمد ہو گئی۔ وہ 1997 میں سپٹ سے واپسی کے دوران اپنے گھوڑے سمیت گلیشئر کی ایک دراڑ میں گر کر لاپتہ ہو گئے تھے۔ اُس وقت کئی دنوں تک ان کی تلاش جاری رہی، مگر کوئی سراغ نہ مل سکا اور بالآخر انہیں لاپتہ قرار دے دیا گیا۔ 

حالیہ دنوں میں جب برف پگھلنے کا سلسلہ شروع ہوا تو مقامی چرواہوں نے گلیشئر کے کنارے انسانی باقیات دیکھی۔ قریبی لوگوں نے فوراً اطلاع دی، اور جب مقام پر پہنچ کر جائزہ لیا گیا تو وہی لاش نکلی جس کی تلاش برسوں پہلے بند ہو چکی تھی۔ حیرت انگیز طور پر نصیرالدین کی جیب میں موجود شناختی کارڈ اور دیگر سامان مکمل طور پر محفوظ حالت میں تھا، جس سے ان کی شناخت کی تصدیق ہوئی۔

مقامی افراد کے مطابق یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس نے پورے علاقے کو حیرت اور افسوس کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک طرف 28 برس پہلے کھوئے ہوئے پیارے کی واپسی نے خاندان کو اندرونی سکون بخشا، تو دوسری جانب ان کے بچھڑنے کا غم دوبارہ تازہ ہو گیا۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ وہ دن آج بھی یاد ہے جب نصیرالدین اپنے گھوڑے پر سپٹ کی طرف گیا تھا اور پھر کبھی واپس نہ لوٹا۔ 

نصیرالدین کے اہلِ خانہ کو اطلاع ملنے پر وہ فوراً موقع پر پہنچے، اور طویل صبر آزما انتظار کے بعد انہیں اپنے پیارے کی لاش دفنانے کا موقع مل گیا۔