ویب ڈیسک: آن لائن جوئے کی غیر قانونی تشہیر سے متعلق جاری تحقیقات میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے خلاف گھیرا تنگ ہونے لگا ہے اور اب معروف ٹک ٹاکر مناہل ملک کا نام بھی ریڈار پر آ چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے سوشل میڈیا پر آن لائن جوئے اور بیٹنگ ویب سائٹس کی پروموشن کرنے والے افراد کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں مناہل ملک کی کچھ ویڈیوز اور سوشل میڈیا پوسٹس زیرِ تفتیش ہیں، جن میں مبینہ طور پر غیر قانونی جوئے کی تشہیر کی گئی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ آن لائن جوئے کی تشہیر پاکستان کے سائبر قوانین اور پی ٹی اے کی پالیسی کے تحت قابلِ گرفت جرم ہے۔ متعدد سوشل میڈیا شخصیات کو نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں اور بعض کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے۔مناہل ملک کے علاوہ دیگر ٹک ٹاکرز اور انسٹاگرام انفلوئنسرز کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں جو مختلف بیٹنگ ایپس یا ویب سائٹس کی پروموشن کرتے پائے گئے ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) اس وقت مشترکہ طور پر آن لائن جوئے کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے میں مصروف ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز رکھنے والے افراد کا ایسا غیر قانونی مواد پروموٹ کرنا نوجوانوں کو غلط راستے کی طرف لے جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اگر مناہل ملک کے خلاف الزامات ثابت ہو گئے تو ان کے خلاف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے ممکنہ طور پر انہیں طلب بھی کیا جا سکتا ہے۔مزید پیش رفت آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے۔
واضح رہے کہ ڈکی بھائی پہلے سے ہی جوئے کی پروموشن کے الزام میں گرفتار ہیں،نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے مختلف ناموں کو نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں، ان ناموں میں ’سٹرولوجی‘ کے نام سے یوٹیوب چینل چلانے والی معروف پاکستانی یوٹیوبر اقرا کنول، رجب بٹ کا نام پہلے سے آچکا ہے اور بھی دیگر ٹک ٹاکرز اور یوٹیوبرز اس میں شامل ہیں۔