اجتماعی زیادتی کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا

اجتماعی زیادتی کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا

(عرفان ملک)لاہور شہر میں مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا ۔ ملزمان نے شیخوپورہ کی رہائشی لڑکی کو نوکری کا جھانسہ دیکر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔

پولیس کے مطابق ملزمان حسن اور عرفان نے نوکری کا جھانسہ دیکر لاہور کے ایک ہوٹل میں بلایا ۔متاثرہ لڑکی نے بیان دیا کہ ریلوے سٹیشن کے قریب واقع ہوٹل میں ملزمان نے زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکہ تحقیقات شروع کردیں۔ ملزمان کے خلاف تھانہ نولکھا میں مقدمہ درج کیا گیا ۔متاثرہ لڑکی کا کہناتھا کہ مجھے ملزمان کی جانب سے نوکری کی آفر کی گئی،دھوکہ دے کرریلوے سٹیشن بلایا جہاں ہوٹل میں ملزمان نےعصمت دری کی۔

 آئی جی پنجاب انعام غنی نےلاہور میں لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعہ کا نوٹس لے لیا،سی سی پی او لاہور سے واقعہ کی 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی گئی، آئی جی پنجاب نے ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی کا حکم دیا۔

 واضح رہے کہ گزشتہ روز جڑانوالہ روڈ پر بھی ایک لڑکی کو درندوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا، لڑکی بس خراب ہونے کے باعث سڑک پر کھڑی تھی  کہ کار سواروں نے لفٹ دینے کے بہانے لڑکی کو گاڑی میں بٹھایا  اور  خاتون کو موڑکھنڈا کے قریب بسیدھر گاؤں میں لے گئے اور اپنے چار ساتھیوں کے ہمراہ خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

اغواء کاروں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد متاثرہ خاتون کو  برہنہ حالت میں کھیتوں میں پھینک دیا،واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور متاثرہ خاتون کو طبی امداد  کے لئےہسپتال منتقل کردیا۔

پولیس تھانہ مانگٹانوالہ نے متاثرہ خاتون کی بہن مسرت بی بی کی درخواست پر دو نامزد اور چار نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے، پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دیں ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے تھانہ مانگٹانوالہ کی حدود میں لڑکی سے زیادتی کے واقعے کا سختی سے نوٹس لیا ہے،وزیراعلیٰ پنجاب نے آر پی او شیخوپورہ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔