سٹی42: غزہ میں 19 جنوری سے جاری جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ تمام ہوگیا۔ جنگ بندی دوسری مرحلہ میں بھی جاری رہنے کا انحصار حماس کی قید سے باقی تمام یرغمالیوں کی رہائی پر ہے۔ اسرائیل نے دوسرے مرحلہ کے لئے مذاکرات میں شرکت کا عندیہ دیا لیکن پہلے ہی یہ واضح کر دیا کہ حماس کو باقی تمام زندہ یرغمالیوں کو 8 مارچ تک رہا کرنا ہو گا ورنہ جنگ بندی ٹوٹ جائے گی۔
پہلے مرحلے میں حماس نے اسرائیل سے سات اکتوبر 2023 کے حملے مین اغوا کئے ہوئے25 یرغمالی رہا کئے، ان کے ساتھ دو ایسے اسرائیلی یرغمالیوں کو بھی رہا کیا جو دس سال سے زیادہ عرصہ سے حماس کی قید مین تھے۔ ان یرغمالیوں کی واپسی کے عوض اسرائیل کی حکومت نے اسرائیل کی جیلوں میں غزہ جنگ کے دوران گرفتار کئے گئے اور اس سے پہلے دہشتگردی، حملوں اور دیگر جرائم میں قید کی سزائیں کاٹ رہے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا۔
حماس نے اسرائیلی تجاویز کے ساتھ جنگ بندی کےپہلے مرحلے میں توسیع مسترد کردی ہے جب کہ قاہرہ میں دوسرے مرحلے کی بات چیت تاحال بے نتیجہ ہے۔ قاہرہ میں امریکی، قطری اور مصری ثالث کاروں کے ساتھ ملاقات کے بعد اسرائیلی وفد یروشلم واپس آگیا۔
اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے فریقین سے معاہدہ جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔
اسرائیل کے اندر جنگ بندی جاری رکھنے پر عمولی اتفاق رائے موجود ہے لیکن عوام اور حکومت دونوں یہ چاہتے ہیں کہ حماس جنگ بندی کے 42 روز پر محیط پہلے مرحلہ کی طرح ایک ایک ہفتے بعد دو دو تین تین یرغمالیوں کو رہا کرنے کی بجائے تمام زندہ یرغمالیوں کو ایک ہی دن بیک وقت واپس کرے۔ اس عمومی رائے کو لے کر اسرائیل کی حکومت نے حماس کو تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لئے 8 مارچ کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
دوحہ اور قاہرہ میں قطر اور مصر کے سفارتکار اسرائیل اور حماس کے درمیان پیغام رسانی کا کام کر رہے ہیں تاہم جنگ بندی کے مستقبل کا فیصلہ دو متحارب فریق خود ہی کریں گے۔