دعا شکیل پراچہ: رواں مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش ہونے کو ہے اور بجٹ سے قبل موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک گیجٹس پر ٹیکسوں میں اضافے کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
موبائل فون فروش اور الیکٹرانکس کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پہلے ہی کاروباری سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں، ایسے میں نئے ٹیکسوں سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی کاروبار سست روی کا شکار ہے، اگر موبائل فونز اور گیجٹس پر مزید ٹیکس عائد کیے گئے تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا جس سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوگا بلکہ صارفین بھی مشکلات کا شکار ہوں گے۔
مارکیٹ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ مہنگے موبائل فونز اور گیجٹس کی وجہ سے خریداروں کی قوتِ خرید پہلے ہی متاثر ہو چکی ہے، جبکہ مزید ٹیکسوں سے فروخت میں مزید کمی کا خدشہ ہے۔
دکانداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں موبائل فونز اور الیکٹرانکس سیکٹر کو ریلیف دیا جائے تاکہ قیمتوں میں استحکام آئے اور عوام کو سستی مصنوعات میسر آسکیں ۔
ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے سے کاروبار اور خریدار دونوں متاثر ہوں گے ، اگر ٹیکسوں میں کمی کی جاتی ہے تو نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ حکومت کو مجموعی فروخت بڑھنے کی صورت میں محصولات کی مد میں بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔