ٹک ٹاک پر 21 ملین فالوورز والا اکاؤنٹ رکھنے والے علی حیدر آبادی کی جانب سے اہلیہ زینب علی کو اپنے یوٹیوب وی لاگ میں طلاق دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس کے بعد سے طلاق کی ویڈیو اور جوابی الزامات کے کلپس سوشل میڈیا پیجز پر مسلسل ری پوسٹ کیے جا رہے ہیں، علی حیدر آبادی کا یہ عمل قابلِ مذمت ہے کہ انہوں نے طلاق جیسے سنجیدہ اور گھریلو معاملے کو ویڈیو بنا کر پوسٹ کیا۔ ایسی ویڈیوز کو شیئر اور وائرل کرنا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے۔ کیونکہ طلاق، ازدواجی جھگڑا اور گھریلو تنازع ایک انتہائی حساس اور ذاتی نوعیت کا معاملہ ہے۔ اسے پبلک کرنا فریقین ، خاص طور پر خاتون کی عزت اور ذہنی صحت پر حملہ ہے۔
سوشل میڈیا صارفین ہوسکتا ہے کہ ویڈیوز تقریح یا ویوز بڑھانے کے لیے شئیر کررہے ہوں لیکن وائرل ویڈیوز نہ صرف فریقین کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی معیار کو گرا رہی ہیں۔ ذاتی معاملات کو پبلک کرنا ایک بڑی غلطی ہے جس کا خمیازہ دونوں کو بھگتنا پڑے گا۔ ابھی تک اس بات کی بھی تصدیق نہیں ہوئی کہ اصل معاملہ ہے کیا ؟ اور طلاق تک نوبت کیوں پہنچی۔
فی الحال یہ کیس سوشل میڈیا کا کلاسیکل ڈرامہ لگتا ہے جہاں شادی، طلاق، الزامات سب ویوز، فالوورز اور پیسے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ دونوں نے شادی کو بھی کانٹینٹ بنایا تھا، اب طلاق کا کانٹینٹ بھی ہٹ ہوگیا۔ کیونکہ اگر واقعی تشدد کا کیس ہے تو متعلقہ حکام ، پولیس، عدالت، یا تحفظ برائے خواتین کے اداروں سے رابطہ کریں اور ثبوت جمع کروائیں۔ سوشل میڈیا پر بحث برائے بحث اور جواب الجواب میں الجھنا وقت کا ضیاع ہے، اوریہ کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہے۔
طلاق دینے کی ویڈیو وائرل ہونے کے چند گھنٹوں بعد انکی بیوی کا بھی ردعمل سامنے آیا۔ جس میں انہوں نے ایک پیپر دیکھاتے ہوئے الزام لگایا کہ طلاق تو 27 فروری 2026 کو ہی ہوچکی تھی علی یہ سب لائک ، ویوز اور فالورز بڑھانے کے لیے کررہا ہے ۔ انہوں نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز سے بھی اس معاملے پر نوٹس لینے کی اپیل کی۔ جس کے کچھ دیر بعد علی حیدر آبادی کی قرآن ہاتھ میں پکڑ کرایک نئی ویڈیو سامنے آئی، جس میں وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا فیملی میٹر ہے۔ میری اہلیہ زینب میرے اوپر الزامات لگا رہی ہے کہ میری انگلی توڑدی ہے،مجھے مارا ہے۔ میں قرآن اٹھار رہا ہوں کہ میں نے اسے نہیں مارا، نہ کوئی دھمکی دی۔
علی حیدر آبادی کے اس بیان کے بعد معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا اورزینب کی جانب سے الزامات پر مبنی مزید ویڈیوز کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ چند گھنٹوں میں مسلسل 8 ویڈیوز آنا معاملے کو مشکوک بنا رہا ہے ۔ حقیقی تشدد کے کیس میں عام طور پر ایک دو واضح بیان اور ثبوت کافی ہوتے ہیں۔ اتنی ساری ویڈیوز سے لگتا ہے کہ یہ سوشل میڈیا وار اور بیانیہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ زینب کے آفیشل انسٹا گرام اکاؤنٹ پر موجود ان ویڈیوز میں زینب کے ہاتھ پر ایک پٹی باندھی ہوئی ہے جس نے تشدد کے دعوے کو بھی مشکوک بنا دیا ہے۔ ایک ویڈیو میں زینب نے دائیں ہاتھ پر پٹی دکھائی اور دعویٰ کیا کہ علی نے توڑا ہے۔ دوسری ویڈیو میں پٹی بائیں ہاتھ پر نظر آئی۔
پٹی والا تضاد زینب کے حق میں نہیں جا رہا، لیکن اس سے پورا کیس جھوٹا ثابت بھی نہیں ہوتا ۔ بس شک بڑھتا ہے۔ پٹی والا پوائنٹ زینب کے بیان کو کمزور کر رہا ہے۔ کیونکہ یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی انگلی یا ہاتھ ٹوٹا تھا تو پٹی ایک ہی ہاتھ پر کیوں نہیں؟ یہ زینب کے بیان پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ وائرل ویڈیوز سے فی الحال یہ ایک سوشل میڈیا سٹنٹ لگتا ہے، اصل حقائق آئندہ چند روز میں پولیس انکوئرای اور میڈیکل رپورٹس کے بعد ہی سامنے آئیں گے ۔