سٹی 42: وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے جیل اصلاحات کانفرنس سے خطاب کیا ۔ خطاب سے قبل مریم نواز نے پنجاب میں جیل اصلاحات سے متعلق ڈاکومنٹری چلوائی
مریم نواز نے کہا میں یہاں اس فورم پر کو سیاسی بات نہیں کرنا چاہتی،میں نے خود سخت حالات میں جیل کاٹی ہے، میں نے جیل کاٹ کر جو دیکھا پھر ویسے اصلاحات کیں۔
وزیر اعلی مریم نواز نے کہا مجھے اور والد نواز شریف کو ایک ساتھ قید رکھا گیا،میرے جیل کے کمرے میں واش روم اور سونے کی جگہ ساتھ تھی،جیل میں جائے نماز رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی،صفائی ستھرائی کی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں تھیں،جیل میں میری شوگر ڈاون ہوئی تھی مدد کیلئے چلاتی رہی،کوئی میری آواز نہیں سنتا تھا نہ کوئی مدد کیلئے آیا،ایک شیشے کی بوتل نظر آئی جس میں گڑ مکس کیا ہوا تھا،شوگر ڈاون ہونے کی وجہ سے میرا جسم کانپ رہا تھا،جب بوتل اٹھانے لگی تو ٹوٹ گئی گڑ اور شیشے کے ٹکڑے فرش پر بکھر گئے،فرش سے گڑ اٹھا کر میں نے کھایا تھا کیونکہ شوگر ڈاون تھی،جب ہم قید تھے والدہ شدید بیمار ہوگئیں مگر ہمیں ملنے کی اجازت نہیں تھی،میری ماں کا جب انتقال ہوا میں اور والد قید میں تھے،آج میری ماں کی سالگرہ ہے انکی باتیں آج تک نہیں بھولتیں۔
مجھے اڈیالہ میں 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا گیا۔قید تنہائی کا ذہنی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے مجھے اندازہ ہے۔جیل میں جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے۔
پنجاب کی جیلوں میں تمام قیدیوں کیلئے ویڈیو لنک کی سہولت ہے،جیل میں میرے ساتھی کتابیں اور جائے نماز تھی،جیل میں جو دیکھا اس کے مطابق پنجاب کی جیلوں کو بہتر کیا،جیلوں میں ایمر جنسی بٹن متعارف کرایا،مجھے جیل میں احساس ہوا کہ بے بسی کسے کہتے ہیں۔کم عمر قیدی میرے قریب تھے جن کی آہ و پکار آج تک یاد ہے۔بعد میں میری کتابیں بھی بند کر دی گئیں۔غیر ملکی قیدی چھپ کر کمرے کے کونے سے ناول بھیجتی تھیں۔