ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے ائیرپورٹ ٹیکسی سروس سے متعلق اہم آئینی درخواست مسترد کر دی
عدالت کے فیصلے کے مطابق ائیرپورٹ جیسے حساس مقام پر رسائی عوامی مفاد اور سکیورٹی کے تقاضوں کے تحت ریگولیٹ کی جا سکتی ہے،ائیرپورٹ انٹری پاس اور ٹیکسی اسٹیکر بحال نہ کرنے کا فیصلہ برقرار ہے ۔ ائیرپورٹ انٹری پاس کسی کا مستقل حق نہیں، یہ ریگولیٹری اجازت ہے۔
ائیرپورٹ مینیجر کو سکیورٹی اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے مکمل قانونی اختیار حاصل ہے،جانبداری اور امتیازی سلوک کے الزامات ثابت نہ ہو سکے، ڈرائیورز کی درخواست خارج کردی گئی ۔
جسٹس راحیل کامران نے شہری اللہ بخش سمیت دیگر ڈارئیورز کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا ۔9 صفحات پر مشتمل فیصلہ عدالتی نظیر قرار دیا گیا ۔
ائیرپورٹ میں ٹیکسی چلانے کی اجازت بنیادی یا مستقل قانونی حق نہیں۔ائیرپورٹ مینیجر کو انٹری پاس جاری، معطل یا منسوخ کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے،ائیرپورٹ سکیورٹی، مسافروں کی سہولت اور نظم و ضبط کو ترجیح دینا انتظامیہ کی قانونی ذمہ داری ہے،صرف روزگار کا دعویٰ ائیرپورٹ کے محدود علاقے میں داخلے کا حق پیدا نہیں کرتا،
ائیرپورٹ انتظامیہ کا فیصلہ قانون کے مطابق اور اختیارات کے دائرے میں تھا، پرانے اور نئے ریکارڈ، شکایات اور رپورٹس کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا گیا۔عدالتیں انتظامی فیصلوں کی جگہ اپنا فیصلہ مسلط نہیں کر سکتیں، صرف قانونی تقاضوں کا جائزہ لیتی ہیں۔جانبداری، اجارہ داری اور امتیازی سلوک کے الزامات شواہد سے ثابت نہ ہو سکے، مستقبل میں درخواست گزار قانون کے مطابق دوبارہ انٹری پاس کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔آئینی دائرہ اختیار میں صرف فیصلہ سازی کے قانونی عمل کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، میرٹ کا نہیں۔لاہور ہائیکورٹ نے ائیرپورٹ مینیجر کے 27 نومبر 2025 کے حکم کے خلاف درخواست خارج کردی۔