ویب ڈیسک:پاکستان کے معروف ٹک ٹاکر اور کانٹینٹ کری ایٹر علی حیدرآبادی کی ازدواجی زندگی کے خاتمے نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں طلاق کے بعد دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے حوالے سے اپنے اپنے مؤقف عوام کے سامنے رکھ دیے ہیں۔
طلاق کی ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد معاملہ مزید سنگین رخ اختیار کر گیا، جبکہ علی حیدرآبادی اور ان کی سابق اہلیہ زینب علی کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
علی حیدرآبادی گزشتہ چند برسوں کے دوران سوشل میڈیا پر خاصی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی زینب علی سے شادی بھی مداحوں میں خاصی مقبول رہی اور نکاح سے لے کر شادی کی تقریبات تک کی تصاویر اور ویڈیوز بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی تھیں۔ شادی کے بعد دونوں مشترکہ طور پر مختلف ویڈیوز اور ڈیجیٹل کانٹینٹ بھی شیئر کرتے رہے۔
تاہم حالیہ دنوں میں ان کے درمیان علیحدگی کی خبریں اس وقت زور پکڑ گئیں جب ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں علی حیدرآبادی کو اپنی اہلیہ کو طلاق دیتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی اور صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے کیے جانے لگے۔
طلاق کے بعد زینب علی نے بھی ایک ویڈیو پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے اپنے ہاتھوں پر بندھی پٹیاں دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران انہیں جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں متعدد بار طلاق اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
زینب علی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل بھی کی۔ ان کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ کی ٹیم کی رکن حنا پرویز بٹ نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں انصاف کی فراہمی کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی، جس کے بارے میں زینب علی نے بعد ازاں ایک نئی ویڈیو میں آگاہ کیا۔
دوسری جانب علی حیدرآبادی نے بھی ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے اپنی سابق اہلیہ کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔ قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی زینب علی پر جسمانی تشدد نہیں کیا اور نہ ہی ان کی انگلی توڑی۔
علی حیدرآبادی کے مطابق، انہوں نے طلاق کی ویڈیو اپنی حفاظت کے لیے ریکارڈ کی تاکہ مستقبل میں کسی ممکنہ بلیک میلنگ یا جھوٹے دعوے کی صورت میں ان کے پاس ثبوت موجود ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں کہیں بھی تشدد کا کوئی عنصر موجود نہیں، بلکہ آخر میں چند افراد ان سے موبائل فون لینے کی کوشش کر رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ویڈیو بننے سے پہلے ہی ان کا سامان پیک کر دیا گیا تھا اور انہیں گھر چھوڑنے کے لیے کہا گیا تھا۔ ان کے مطابق وہ اپنی سابق اہلیہ کے گھر میں باہمی رضامندی سے مقیم تھے، جبکہ انہوں نے متعدد بار الگ رہائش کا بھی انتظام کیا، لیکن زینب وہاں منتقل ہونے پر آمادہ نہیں ہوئیں۔
علی حیدرآبادی کا کہنا تھا کہ تین سالہ ازدواجی زندگی کے دوران اختلافات ضرور رہے، تاہم انہوں نے کبھی دھمکیاں نہیں دیں اور نہ ہی کسی قسم کا تشدد کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام ریاستی اداروں کا احترام کرتے ہیں اور اگر کسی تحقیقاتی ادارے نے طلب کیا تو اپنے مؤقف کے حق میں تمام دستیاب شواہد پیش کریں گے۔