جمال الدین: اقدام قتل کا ملزم مقدمہ سے باعزت بری ، ملزم مقدمہ کے 20 ماہ بعد بری ،عدالت نے ملزم نذیر احمد کی جیل سے رہائی کا حکم دے دیا ،ملزم نے کھانا کھانے کے تنازعہ پر مدعی مقدمہ کوچھریوں کے وار کرکے زخمی کیا تھا ۔
سنیئر سول جج محمد عباس مگھیانہ نےملزم نذیر احمد کو بری کیا ،ملزم کیجانب سے ملک احسن اشرف کھوکھر ایڈوکیٹ نے کیس کی پیروی کی، ملک احسن اشرف کھوکھر ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا
تھانہ بھاٹی گیٹ نے ملزم نذیر احمد کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا ، ملزم پرکھانے کے دوران سالن نہ دینے کے تنازعہ پر کو زخمی کرنے کا الزام ہے، مقدمہ کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ، ملک احسن اشرف کھوکھر ایڈوکیٹ کا مزید کہا تھا کہ مضروب کے درج ایف آئی آر اور تتیمہ بیان میں تضاد ہے، پولیس تفتیش ، میڈیکل رپورٹ اور ڈاکٹر کے بیان میں تضاد ہے، ملک احسن اشرف کھوکھر ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے استدعا کی کہ عدالت حالات و واقعات اور گواہوں کے بیانات کو مد نظر رکھتے ہوئے ملزم کو بری کرنے کا حکم دے ، سرکاری وکیل نے ملزم کو سزا دلوانے کے لیے دلائل دئیے ، لیکن عدالت کو مطمئن نہ کرسکا ،عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے 20 ماہ بعد ملزم نذیر احمد کو بری کردیا۔