جسے اللہ رکھے ، پولیس اہلکاردماغ میں گولی لگنے کے باوجود زندہ

جسے اللہ رکھے ، پولیس اہلکاردماغ میں گولی لگنے کے باوجود زندہ

(سٹی 42)قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پکڑنا پولیس کی ذمہ داری ہے لیکن اس ذمہ داری کو سرانجام دیتے ہوئے پولیس والوں کو بہت سی خطرناک صورتحال کاسامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ کئی بار ان کی زندگی بدل کر رکھ دیتا ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ دس سال قبل روسی پولیس کے سابق اہلکارولادی میر کرتوف کے ساتھ پیش آیا۔ولادی میر کرتوف دماغ میں گولی ہونے کے باوجود ایک صحت مند زندگی گزار رہے ہیں. ایکسرے رپورٹ کے مطابق گولی سابق اہلکار کے دماغ کے انتہائی اوپر والے حصے میں ابھی بھی درج ہے. سرجنز نے سرجری کے ذریعے گولی نکالنے سے انکار کردیا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ عمل ولادی میرکی جان لے سکتاہے۔

ولادی میر کرتوف کے مطابق یہ واقع اس وقت پیش آیا جب روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں پولیس نے ایک گیمنگ سینٹر پر گینگ ڈکیتی کی رپورٹ ملتے ہی کارروائی کی اور فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار دمتری وروئن اپنی جان سے ہاتھ دو بیٹھا جبکہ اس کارروائی کے دوران لادی میر کرتوف کو جو گولی لگی وہ ان کے دماغ کی پچھلی سطح سے داخل ہوکر انتہائی اوپر والے حصے میں روک گئی۔ جس کے بعد ولادی میر کی آنکھ حادثے کے 9دن بعد الیگزینڈٹوروسکی ہسپتال میں کومہ سے باہر آنے کے بعدکھولی۔

36 سالہ ولادی میر کرتوف نے مزید بتایاکہ ان کو لگنے والی گولی 7.62کیلیبر ناگن ریوالور کی تھی۔ ڈاکٹرز کے مطابق اس کے بچنے کی امید نہ ہونے کے برابر تھی مگر جسے اللہ رکھے، ولادی میر کرتوف نہ صرف زندہ ہے بلکے اپنی بیوی اور پانچ ماہ کی بچی کے ساتھ خوشحال زندگی گزار رہا ہے۔