ن لیگی رہنما رانا ثناء اللہ جوڈیشل ریمانڈ پر کیمپ جیل منتقل


(سٹی 42) جوڈیشل مجسٹریٹ احمد وقاص نے منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتار ن لیگی رہنما اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر  کیمپ جیل بھیج دیا، عدالت نے رانا ثناء اللہ کو  دوبارہ 16 جولائی کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

اینٹی نارکوٹکس فورس(اے این ایف) نے  انتہائی سخت سکیورٹی میں منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتار ن لیگی رہنما کو جوڈیشل مجسٹریٹ احمد وقاص کی عدالت میں پیش کیا، اے این ایف اہلکاروں نے رانا ثناء اللہ کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئےعدالت کو آگاہ کیا کہ  رانا ثنا ءاللہ کو گزشتہ روزموٹروے سے گرفتار کیاگیا جہاں اُن سے 21 کلو  منشیات بھی برآمد ہوئی، برآمد ہونے والی منشیات میں 15کلو ہیروئن بھی شامل ہے،سابق وزیر قانون کیخلاف 21 کلو منشیات کا مقدمہ درج ہے۔

  عدالت نے اے این ایف کی استدعا منظور کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا،عدالتی حکم پر راناثناء اللہ کو کیمپ جیل منتقل کردیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رانا ثناء اللہ جیل میں لیگی کارکنان کے ساتھ نہیں رکھے جائیں گے،رانا ثناء اللہ کو منشیات فروشوں والی بیرک میں منتقل کیا جائے گا،منشیات فروشوں کو قانون کے مطابق بی کلاس بھی نہیں دی جاتی۔

بعدازاں رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ میرے خلاف منشیات کا مقدمہ ظلم ہے، یہ ظلم زیادہ دیر نہیں چلے گا.

رانا ثناء اللہ کی عدالت پیشی کے موقع پر  ضلع کچہری کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، جبکہ کنٹینرز لگا کر راستے بند کر دیئے گئے ، عدالت کے باہر رانا ثناء اللہ سے اظہار یکجہتی کیلئے لیگی رہنماؤں اورکارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

Sughra Afzal

Content Writer