ویب ڈیسک: عالمی سطح پر اسمارٹ فون صارفین کو 2026 میں قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی میموری کی طلب قرار دی جا رہی ہے۔
عالمی مارکیٹ انٹیلی جنس ادارے انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن (IDC) کی دسمبر 2025 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ریم (RAM) کی تیاری کا بڑا حصہ اب اسمارٹ فونز اور پرسنل کمپیوٹرز کے بجائے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے مختص کیا جا رہا ہے۔
اس تبدیلی کے باعث موبائل فون انڈسٹری کو میموری کی محدود دستیابی اور بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا ہے جس کا براہِ راست اثر صارفین تک منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق جس طرح اسمارٹ فونز کی بہتر کارکردگی کے لیے زیادہ میموری ضروری ہوتی ہے اسی طرح اے آئی ڈیٹا سینٹرز بھی زیادہ ریم کے بغیر مؤثر طریقے سے کام نہیں کر سکتے۔ دنیا بھر میں اے آئی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ریم کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
IDC کا کہنا ہے کہ 2026 میں (DRAM) کی سپلائی میں سالانہ اضافہ صرف 16 فیصد متوقع ہے، جو تاریخی اوسط سے خاصا کم ہے۔ اس صورتحال میں ایپل، گوگل اور سام سنگ جیسے بڑے اسمارٹ فون مینوفیکچررز کی پیداواری لاگت بڑھنے کا امکان ہے۔
انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن کی سینئر ریسرچ ڈائریکٹر نبیلا پوپل کے مطابق ’آنے والا میموری بحران مارکیٹ کو شدید متاثر کرے گا، اور اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کے پاس قیمتوں میں اضافے کا بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کے سوا کوئی خاص متبادل موجود نہیں ہوگا‘۔
دوسری جانب مارکیٹ ریسرچ فرم کاؤنٹرپوائنٹ کے مطابق 2026 میں عالمی اسمارٹ فون شپمنٹس میں 2.1 فیصد کمی متوقع ہے جبکہ ریم کی قیمتیں سال کے دوسرے نصف تک 40 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اوسط اسمارٹ فون فروخت قیمت میں 6.9 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں آئی فون 17 میکس کے بیس ماڈل کی قیمت بڑھ کر تقریباً 1,281 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو 2025 میں اعلان کردہ 1,199 ڈالر سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔