افشاں رضوان:لاہور ایک بار پھر بسنت کے رنگوں میں رنگنے کو تیار ہے، شہر کا آسمان برسوں بعد دوبارہ رنگین ہونے کی امید جاگ اٹھی ہے, 20 سال بعد بسنت کی واپسی نے شہریوں میں نیا جوش و خروش پیدا کر دیا ہے ,شہرکی رونقیں ایک مرتبہ پھر بحال ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔
کل سے بسنت کا سامان باقاعدہ طور پر مارکیٹ میں دستیاب ہے، جس کے باعث مختلف بازاروں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پتنگ سازی کے سامان کی فروخت میں تیزی آ گئی ہے اور شہر کے روایتی بازاروں، خصوصاً موچی گیٹ میں پتنگ، ڈور اور گڈوں کی ریکارڈ فروخت ہو رہی ہے۔
دکانداروں کے مطابق ایک تاوا گڈا اور پتنگ 400 روپے میں فروخت ہو رہی ہے، جبکہ ڈیڑھ تاوا گڈا اور پتنگ کی قیمتیں 500 سے 600 روپے تک جا پہنچی ہیں۔ دوسری جانب ڈور کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں 2 پیس پِنا ڈور 12 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بسنت کی واپسی سے لاہور پھر زندہ ہو گیا ہے، تاہم مہنگائی نے خوشیوں کو کچھ حد تک محدود کر دیا ہے۔ شہریوں کے مطابق شوق تو بہت ہے مگر بڑھتی قیمتیں بسنت منانے میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
دوسری جانب تاجر طبقہ بسنت کو کاروباری سرگرمیوں کے لیے خوش آئند قرار دے رہا ہے اور امید ظاہر کر رہا ہے کہ یہ تہوار نہ صرف شہر کی ثقافتی شناخت بحال کرے گا بلکہ مقامی معیشت میں بھی بہتری لائے گا۔