ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور میں بسنت کے لیے 2,276 مجاز سیل پوائنٹس قائم،سکیورٹی ہائی الرٹ

لاہور میں بسنت کے لیے 2,276 مجاز سیل پوائنٹس قائم،سکیورٹی ہائی الرٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  لاہور میں دو دہائیوں کے طویل وقفے کے بعد بسنت کے انعقاد کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ کمشنر لاہور مریم خان کے مطابق شہر میں پتنگ اور ڈور کی فروخت کے لیے مجموعی طور پر 2 ہزار 276 مجاز سیل پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں تاکہ شہری محفوظ انداز میں بسنت منا سکیں۔

کمشنر لاہور نے بتایا کہ ہر سیل پوائنٹ پر پتنگ بازی کا سامان کیو آر کوڈ اور این او سی کے تحت فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ اندرونِ لاہور کے ریڈ زون کے علاوہ شہر کے تمام علاقوں میں یہ سیل پوائنٹس قائم ہیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ صرف کیو آر کوڈ والا سامان خریدیں، کیونکہ بغیر این او سی یا کیو آر کوڈ سامان فروخت کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔

مریم خان کے مطابق تمام اسسٹنٹ کمشنرز کے ماتحت کوئیک رسپانس ٹیمیں سیل پوائنٹس کی چوبیس گھنٹے نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ لاہور انتظامیہ صفائی، آگاہی اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے مکمل طور پر متحرک ہے۔

پولیس حکام کے مطابق  پتنگ بازی کی اجازت صرف 6، 7 اور 8 فروری کو دی گئی ہے۔ اس حوالے سے لاہور پولیس نے سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر سخت کریک ڈاؤن جاری ہے۔ رواں ماہ 1316 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور 1237 ملزمان گرفتار ہوئے ہیں۔ کارروائیوں کے دوران 28 غیر قانونی مینوفیکچررز، 197 فروخت کنندگان اور 1152 پتنگ اڑانے والے گرفتار کیے گئے، جبکہ 81 ہزار سے زائد پتنگیں اور 1422 چرخی و ممنوعہ ڈور برآمد کی گئی ہے۔

فیصل کامران نے واضح کیا کہ بسنت کے دوران صرف ساڑھے چار گٹھی پتنگ اور ڈیڑھ تاوا گڈا اڑانے کی اجازت ہو گی۔ صرف کاٹن دھاگے کی ڈور قابلِ استعمال ہو گی، جبکہ دھاتی تار، نائلون، کیمیکل اور شیشہ لگی مانجے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں 3 سے 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یکم سے 8 فروری تک صرف ضلعی انتظامیہ سے رجسٹرڈ دکانداروں کو فروخت کی اجازت ہو گی، جبکہ موٹر سائیکل سواروں کے تحفظ کے لیے سیفٹی راڈز کی تنصیب کا عمل بھی جاری ہے۔

دوسری جانب دکانداروں کے مطابق ایک تاوا گڈے کی قیمت 300 سے 350 روپے، ڈیڑھ تاوا گڈا 400 سے 450 روپے جبکہ ڈور دو پیس پنا 5 ہزار سے 9 ہزار روپے تک فروخت کی جا رہی ہے۔ تمام پتنگوں اور گڈوں پر کیو آر کوڈ لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے بعد بسنت کی واپسی سے شہر میں جشن کا سماں ہے، تاہم سکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی مکمل پاسداری کریں اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں، تاکہ بسنت کو محفوظ اور خوشگوار بنایا جا سکے۔