ویب ڈیسک : تحریکِ تحفظ آئین پاکستان اور پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نےکہا ہے کہ امن اور انصاف ایک ساتھ جڑے ہیں، جنگ پاگلوں کا کام ہے۔
ایوب سٹیڈیم کوئٹہ میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ یہاں کسی کو ایک روپے بھی نہیں دیئے گئے،بلوچستان بھر سے لوگوں نے جلسہ میں شرکت ہے،یہ اتفاق کی سب سے بڑی مثال ہے،اریخ میں لکھا جائے گا کہ عوام نے ایوب سٹیڈیم میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ وطن وسائل سے مالا مال ہے،قرآن پاک میں لکھا ہے کہ اللہ پاک کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،اس بات پر دھوکہ نہیں دیا جاسکتا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے،پاکستان ایک سوشل کنٹریکٹ کے تحت چلے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجود حکومت نے آئین کی بیخ نکال دی ہے،موجود حکومت عوام کی نمائندہ حکومت نہیں،ہم کسی کو گالی نہیں دیں گے،جنکی اپنی ماں بہنیں ہوں وہ کسی کو گالی نہیں دیتے،خواتین کے بے حرمتی کروگے تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے،ان عدالتوں کو ماننا اور انہیں پھترنا مارنا بھی ہماری کمزوری ہے،امن اور انصاف ایک ساتھ جڑے ہیں،کوئٹہ:جنگ پاگلوں کا کام ہے،ہم جنگ کے حامی نہیں ہیں،اسلام بھی جنگ کو پسند نہیں کرتا،ہم کسی سے خیرات نہیں مانگ رہے،پاکستان آسمان سے نہیں گرا،یہ پانچ قوموں کا مسکن ہے،قبائلی مسائل کو بات چیت سے حل کیا جاسکتا ہے ،ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پشتون علاقوں پر حق حکمرانی یہاں کے عوام کو حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں گوداموں سے مہاجرین کا سامان زبردستی تھانے میں منتقل کیا جاتاہے،پاکستان کو اگر بنانا ہے تو یہ طریقہ نہیں ہے،ہر جگہ قتل عام کا بازار گرم کر رکھا ہے،پاکستان میں ایک ووٹ 90 کروڑمیں فروخت ہورہا ہے،ان پیسوں سے کتنے ہسپتال اور کتنی غریبوں کو کھانا کھیلا جاسکتا ہے اگر پاکستان کو چلانا ہے تو یہاں کی قوموں سے بات کی جائے۔
سربراہ پی میپ کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کی تذلیل کی جارہی ہے ،افغان وہ لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان کی جنگ لڑی ہے اور روس کا مقابلہ کیا،،ملک کے دیگر شہروں میں پشتونوں کی تذلیل کی جاتی ہے۔ وزیر اعلٰی کے پی کے 4 کروڑ عوام کا نمائندہ ہے،انہیں عمران خان سے نہیں ملنے دیا جارہا،آئیں پاکستان کو سنجیدگی سے چلائیں، پشتونخواء ملی عوامی پارٹی پشتونخونوں کی چوکیدار پارٹی ہے،وردی خوف کی علامت بن چکی ہے،وردی پہن کر اگر سیٹوں کی خرید وفروخت کی جائے تو اس کی عزت نہیں رہتی۔
بلوچستان کے موجودہ سپیکر کو حوالدار اسپیکر ہے،سپیکر بلوچستان اسمبلی نے گورنر بلوچستان کو کہا ہے کہ اس مرتبہ ہماری باری ہے ،اچکزئی صاحب سے کہو کہ کس سیٹ پر کھڑا ہونا ہے؟