سٹی42: لاکھوں معصوم یوزرز کو زہریلے پروپیگنڈا، برے اثرات اور نا مناسب لوگوں کے ساتھ میل ملاپ سے بچانے کے لئے سوشل میڈیا سے نکالنے کا انتظام مکمل ہو گیا، حکومت نے سوشل میڈیاکمپنیوں کے دباؤ کو کسی قیمت پر بھی قبول نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔
سیلولر ٹیلی فونی میں سنیا بھر میں سب سے پہلے ترقی کی معراج کو چھو لینے والی قوم آسٹریلیا اپنے بچوں کو سوشل میڈیا سے بچانے کے لئے 10 دسمبر کو تمام بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگا رہی ہے۔ دس دسمبر ہیومن رائٹس کا عالمی دن ہے۔ اس روز 16 سال سے کم عمر آسٹریلین بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روکنے کے سخت ترین قانون کا نفاذ کچھ اور نہین بلکہ اپنے معصوم شہریوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے آسٹریلین قوم کے عزمِ صمیم کا اظہار ہے۔
دس دسمبر کو آسٹریلیا کی حدود میں رہنے والے تمام 16 سالہ بچوں کے سوشل ویب سائٹس استعمال کرنے پر مکمل پابندی نافذ ہو جائے گی۔ سوشل میڈیا میں سینکڑوں ارب ڈالر بچوں کے ذریعہ کمانے والی کمپنیوں کو یہ پابندی ہضم نہیں ہو رہی اور وہ آسٹریلیا کی حکومت پر ہر طرح سے دباؤ ڈال رہی ہیں لیکن حکومت کی خاتون وزیر برائے کمیونیکیشن اینکا ویلز تو تمام آسٹریلین بچوں کی ماں بن کر انہیں تحفظ دینے کے لئے ڈٹ گئی ہیں، ٹس سے مَس نہیں ہو رہیں۔ اور بتا رہی ہین کہ کچھ بھی دباؤ آئے وہ پابندی پر مکمل عمل درآمد کروائیں گی ہی۔

دلیر خاتون وزیر اینکا ویلز نے بتایا کہ آسٹریلیا سوشل میڈیا پر پابندی پر کمپنیوں سے نہیں ڈرے گا۔
آسٹریلیا کی وزیر مواصلات انیکا ویلز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کمپنیوں سے خوفزدہ نہیں ہیں جو ملک کی "عالمی سطح پر" سوشل میڈیا پر پابندی سے متفق نہیں ہیں اور اگر واشنگٹن (ریاست ہائے متحدہ امریکہ) اس پر غور کرے تو وہ مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔
10 دسمبر سے، دس سوشل میڈیا فرموں جن میں سنیپ چیٹ، میٹا، ٹِک ٹِاک اور یوٹیوب شامل ہیں، سب کو 16 سال سے کم عمر بچوں کو ان کے پلیٹ فارم پر اکاؤنٹس رکھنے سے روکنے کے لیے "معقول اقدامات" کرنے ہوں گے۔
اینکا ویلز نے کہا کہ "ہم والدین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں نہ کہ پلیٹ فارمزکے ساتھ۔
میٹا سمیت تمام کمپنیوں نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ نوجوانوں کو آن لائن محفوظ رکھنے کے لیے مزید ضرورت ہے، لیکن نہیں سوچتے کہ پابندی ہی اس کا حل ہے، کچھ ماہرین نے اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
کمپنیوں کے پاس بڑا وقت تھا ، لیکن انہوں نے نقصان پہنچایا
برسبین میں ایک میڈیا آؤٹ لیٹ سےبات کرتے ہوئے، ویلز نے کہا کہ ٹیک کمپنیوں کے پاس کافی وقت تھا - 15 سے 20 سال - ان کو اپنے طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے پندرہ بیس سال کا وقت ملا، تحقیق بتا رہی ہے کہ ان کے پلیٹ فارمز نے نقصان پہنچایا ہے۔
اینکا ویلز کی طاقت نقصان اٹھا چکے بچوں کے والدین
انہوں نے کہا کہ "میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں کیونکہ میں جو کچھ ہم کر رہے ہیں اس کی اخلاقی ضرورت کو سمجھتی ہوں۔" ا ینکا ویلز نے مزید کہا کہ ان والدین سے بات کرنا جن کے بچوں کو آن لائن نقصان پہنچا ہے اس نے مجھےمضبوط رکھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی دنیا بھر کے بہت سے ممالک کی حسد ہے، ان رہنماؤں کی فہرست کو جھنجھوڑتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ اس کی تقلید کے لیے ان کی حکومت سے مشورے کے لیے رابطہ کیا ہے۔
سب سے آگے!
"ہمیں سب سے پہلے ہونے پر خوشی ہے، ہمیں پہلے ہونے پر فخر ہے، اور ہم کسی دوسرے دائرہ اختیار (قوموں اور ملکوں)کی مدد کے لیے تیار ہیں جو یہ چیزیں کرنا چاہتے ہیں۔"
ٹرمپ کی دھمکی
گو کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے دھمکی دی ہے کہ "وہ کسی بھی ایسے ملک کے خلاف کھڑے ہوں گے جو "امریکی ٹیک کمپنیوں پر حملہ کرے گا۔" آسٹریلیا کے ای سیفٹی کمشنر - جن پر سوشل میڈیا پابندی کی نگرانی کا الزام عائد کیا گیا ہے -ان کو امریکی کانگریس کے سامنے گواہی دینے کے لیے بلایا بھی جا چکا ہے۔ لیکن آسٹریلیا میں کوئی بھی امریکہ کے صدر کی دھمکی پر توجہ نہیں دے رہا کیونکہ ان کے لئے یہ معاملہ کمپنیوں کے بزنس کا یا امریکہ کے کاروباری مفاد کا نہیں بلکہ اپنے بچوں کے تحفظ کا ہے۔ اس معاملہ میں آسٹریلیا کو جھکانے کی سوچ سوچنا ہی حماقت ہے، کیونکہ آسٹریلیا ہر طرح سے ہم سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔
خاتون منسٹر اینکا ویلز نے کہا کہ وائٹ ہاؤس اور(امریکہ کی) کانگریس کو آسٹریلیا کے اقدامات کو جانچنے اور پرکھنے کا حق حاصل ہے، لیکن میں اور ہمارے عہدے دار اس سے غافل نہیں ہوں گے۔
"ہم آسٹریلوی اور آسٹریلین ٹیکس دہندگان کے ساتھ اپنا فرض ادا کرنے کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند ہیں جو ہمیں اچھی عوامی پالیسی کی دیکھ بھال کے لیے ادائیگی کرتے ہیں۔"
اینکا نے یہ بھی کہا کہ ٹیک کمپنیاں آسٹریلیا میں اس قانون سازی کے بارے میں فکر مند ہونے کا حق رکھتی ہیں - کمپنیوں کو یہ خدشہ ہے کہ یہ نوعمروں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے والے بہت سے ممالک میں سے پہلا ملک ہو سکتا ہے۔
"اگر آپ کے پاس محفوظ آپریٹنگ ماڈل نہیں ہے اور اگر آپ کے آپریٹنگ ماڈل کے نتیجے میں لوگ اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، تو مجھے لگتا ہے کہ آپ عوامی پالیسی سازوں سے کام کرنے کی توقع کر سکتے ہیں۔"
آسٹریلیا میں پابندی کی پالیسی کیا ہے؟
10 دسمبر سے 16 سال سے کم عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی اجازت نہیں ہوگی۔
آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ پابندی - ایک دنیا کی پہلی پالیسی جو بہت سے والدین میں مقبول ہے - اس کا مقصد انہیں نقصان دہ مواد اور سائبر دھونس اور گرومنگ جیسے دیگر خطرات سے بچانا ہے۔
کچھ نوجوان مہم چلانے والوں نے دلیل دی کہ پابندی بچوں کے حقوق کو نظر انداز کرتی ہے۔

کون کون سا پلیٹ فارم متاثر ہوا ہے؟
فیس بک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، تھریڈز، ٹِک ٹاک، ایکس، یوٹیوب، ریڈٹ اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم کِک اینڈ ٹوِچ پابندی سے متاثر ہوئے ہیں۔
کم عمر بچوں کے کچھ پلیٹ فارم جو پابندی سے بچ گئے
یوٹیوب کڈز YouTube Kids، گوگل کلاس روم اور میسجنگ ایپس جیسے واٹس ایپ, اس پابندی کی زد مین آنے والے پلیت فارمز میں شامل نہیں ہیں۔
حکومت - جس پر پابندی کو آن لائن گیمنگ تک بڑھانے کے لیے دباؤ ہے - نے کہا ہے کہ وہ پابندی لگانے کے لائق پلیٹ فامرز کی فہرست کا جائزہ لینا جاری رکھے گی۔
پابندی کیسے نافذ ہو گی؟
سوشل میڈیا کمپنیوں کو پابندی کو نافذ کرنے کی ضرورت ہوگی - بچوں یا ان کے والدین کو نہیں۔
پلیٹ فارمز کو سنگین یا بار بار خلاف ورزیوں پر ساڑھے چوبیس ملین یورو یا بتیس ملین امریکی ڈالر یا ساڑھے انچاس ملین آسٹریلین ڈالر A$49.5m ($32m; £24.5m) تک کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حکومت نے بتایا ہے کہ پلیٹ فارمز کو بچوں کو اپنی سائٹوں سے دور رکھنے اور عمر کی یقین دہانی کی ٹیکنالوجیز استعمال کرنے کے لیے "معقول اقدامات" کرنے چاہئیں، جیسے کہ آفیشل آئی ڈی یا چہرے/آواز کی شناخت کو اپ لوڈ کرنا، لیکن انھوں نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ کون سا ٹیکنالوجی پلیٹ فارم استعمال کرنا چاہیے۔
کیا یہ کام کرے گا؟
کمپنیوں کے پاس دولت کے انبار ہیں اس لئے کمپنیوں کے حامی بھی بہت ہیں، ان مین ہر طرح کے ہر سطح کے لوگ شامل ہیں جو بظاہر بہت ہمدردی کے ساتھ بات کرتے ہیں لیکن ان کے ذہنوں کے انٹینا سگنل کہیں اور سے لے رہے ہوتے ہیں۔
آسٹریلیا میں آ رہی تاریخ ساز پابندی کے متعلق ان خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ عمر کی یقین دہانی کی ٹیکنالوجیز غلط طریقے سے کچھ صارفین کو بلاک کر سکتی ہیں جبکہ دوسروں کو نابالغ ہونے کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہتی ہیں - اور ان سے بچنا آسان ہو سکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ
بعض ناقدین نے نشاندہی کی ہے کہ گیمنگ پلیٹ فارمز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس AI چیٹ بوٹس کو پابندی سے خارج کر دیا گیا ہے۔حتیٰ کہ بی بی سی، نے ایسے کیسز کو دستاویزی شکل دی ہے جہاں AI چیٹ بوٹس نے بچوں کو خود کو مارنے کی ترغیب دی ہے۔
پلیٹ فارمز کا کیا رد عمل ہو سکتا ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے دلیل دی ہے کہ پابندی غیر موثر ہوگی، اس پر عمل درآمد مشکل ہوگا، کمزور نوجوانوں کو الگ تھلگ کر سکتا ہے اور دوسروں کو انٹرنیٹ کے تاریک کونوں میں لے جا سکتا ہے۔
کمپنیوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے صارفین کی پرائیویسی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
آسٹریلیا بارش کا پہلا قطرہ بنے گا؛ کمپنیوں کے خدشات پیچیدہ ہیں
ایک عام خیال یہ ہے کہ کمپنیاں آسٹریلیا میں لائی جا رہی پابندیوں کی ریژیم سے اس لئے خوفزدہ نہیں کہ یہ آسٹریلیا کی مارکیٹ کا کچھ حصہ ان سے چھین لیں گی بلکہ دراصل اس لئے کہ آسٹریلیا سے ہونے والی ابتدا ساری دنیا میں جائے گی۔ ہر جگہ ہی بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کے قانون بنیں گے اور ہر جگہ کمپنیوں کے پرافٹ سکڑیں گے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ دوسرے ممالک بھی اسی طرح کی پابندیوں کی پیروی کر سکتے ہیں۔