ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام اسٹریٹجک اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران امریکی افواج نے ایران کے خلاف بڑے اور فیصلہ کن حملے کیے، جن کے نتیجے میں ایران کی بحری اور فضائی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی اہم رہنما بھی مارے جا چکے ہیں۔ ان کے بقول ایران کی ایٹمی پروگرام کی صلاحیت بھی ختم کر دی گئی ہے اور اب جنگ اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے آئندہ دو سے تین ہفتوں میں مزید سخت کارروائیوں کا عندیہ دیتے ہوئے ایران کو سخت نتائج کی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ایران کی تیل تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو “پتھر کے دور” میں پہنچا دیا جائے گا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے ایران کی حکومت پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کیے، جن میں ہزاروں مظاہرین کی ہلاکت کا دعویٰ شامل تھا، تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس تنازع کے دوران 13 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اب توانائی کے لحاظ سے خود کفیل ہو چکا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار کی ضرورت نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش امریکا کے لیے بڑا مسئلہ نہیں، کیونکہ دیگر ممالک اپنی ضروریات خود پوری کر سکتے ہیں یا امریکا سے تیل حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک، جن میں اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین شامل ہیں، کو اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ امریکا انہیں کسی بھی نقصان سے بچانے کے لیے پرعزم ہے۔
آخر میں صدر ٹرمپ نے ناسا کو آرٹیمس مشن کے آغاز پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ خلا نورد کامیابی کے ساتھ اپنا مشن مکمل کر کے واپس لوٹیں گے۔