خاتون زیادتی کیس، مرکزی ملزم کا ساتھی رہا

خاتون زیادتی کیس، مرکزی ملزم کا ساتھی رہا

( سٹی 42 ) سانحہ موٹروے زیادتی کیس، مرکزی ملزم عابد تو گرفتار نہ ہوا تاہم زیر حراست ملزم وقار کو بے گناہ قرار دے کر رہا کر دیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب نے وقار کو مرکزی ملزم عابد کا ساتھی قرار دے کر پچیس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔

سانحہ موٹروے زیادتی کیس میں چند ہی روز بعد وزیراعلی پنجاب، وزیر قانون، وزیر اطلاعات اور آئی جی پنجاب نے بتایا تھا کہ ملزمان کی شناخت ہو چکی ہے اور عابد اور وقارالحسن کی گرفتاری پر عوام سے مدد مانگتے ہوئے پچیس پچیس لاکھ ملزمان کی گرفتاری پر انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔

وقار الحسن کی گرفتاری کے لیے پولیس نے اس کے پانچ رشتے داروں کو حراست میں لیا جس کے بعد مقامی افراد نے وقار کو پیش کروا دیا۔ وقار سترہ روز تک پولیس کی حراست میں رہا اور تفشیش میں بے گناہ پایا گیا۔ پولیس کے وقار کا ڈی این اے بھی متاثرہ خاتون کے ڈی این اے سے میچ نہ ہوا جس کے بعد پولیس نے وقار کو رہا کر دیا۔

دوسری جانب سی سی پی او لاہور عمر شیخ اور ماتحت افسران میں اختلافات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ افسر لاہور میں کام کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ مختلف ڈویژنز اور سرکل کے آٹھ افسران تبادلوں کی کوشش کرنے لگ اور اختلافات کا لاہور سیالکوٹ موٹروے کیس پر بھی برا اثر پڑرہا ہے۔ دس روز تک کیس کی تفتیشی ٹیم کا اجلاس تک نہ ہوا۔

زیادتی کیس کامرکزی ملزم عابد ملہی گرفتار ہوا اور نہ ہی تفتیش کے تقاضے مکمل ہوئے، سب کچھ زبانی جمع خرچ تک محدود ہے، تمام تر صورتحال میں پولیس نے چپ سادھ لی جبکہ حکومتی وزراء دعوؤں پر دعوے کیے جارہے ہیں۔