ویب ڈیسک: بھارتی فلم انڈسٹری کی عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ایشوریا رائے بچن آج اپنی 52ویں سالگرہ منارہی ہیں۔
ان کا فنی سفر خوبصورتی، قابلیت، اور یادگار کرداروں سے مزین ہے جنہوں نے نہ صرف بالی ووڈ میں انہیں ایک ممتاز مقام دلایا بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کی شناخت کو مضبوط کیا۔
ایشوریا رائے نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز تمل فلموں سے کیا اور 1997 میں اور پیار ہو گیا کے ذریعے بالی ووڈ میں قدم رکھا۔
ان کے فنی سفر کی اصل پہچان 1999 میں سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ہم دل دے چکے صنم سے ہوئی۔
اس فلم میں نندنی کے کردار نے انہیں زبردست شہرت دلائی اور بہترین اداکارہ کا پہلا فلم فیئر ایوارڈ حاصل ہوا۔
اسی سال سبھاش گھئی کی موسیقی سے بھرپور فلم تال میں ان کی شاندار کارکردگی نے انہیں صفِ اول کی اداکاراؤں میں شامل کر دیا۔
سال 2002 میں ایشوریا نے ایک بار پھر سنجے لیلا بھنسالی کے ساتھ فلم دیو داس میں کام کیا۔
اس فلم میں انہوں نے پارو کے کردار میں شاہ رخ خان کے مقابل شاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا۔
یہ فلم نہ صرف بھارت بلکہ عالمی سطح پر بھی کامیاب ثابت ہوئی اور کانز فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے پیش کی گئی، اس کردار پر ایشوریا کو دوسرا فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔
سال 2006میں ایکشن اور گلیمر سے بھرپور فلم دھوم میں ان کا نیا روپ شائقین کے لیے حیرت انگیز ثابت ہوا جس سے ان کی اداکارانہ وسعت اور تجارتی فلموں میں کامیابی کا پہلو واضح ہوا۔
اگلے سال 2007 میں منی رتنم کی فلم گرو میں انہوں نے اپنے شوہر ابھیشیک بچن کے ساتھ مرکزی کردار نبھایا جسے ناظرین اور ناقدین دونوں نے بے حد سراہا۔
بیٹی کی پیدائش اور چند سال کے وقفے کے بعد ایشوریا نے واپسی کرتے ہوئے جذبہ (2015) اور فلم اے دل ہے مشکل (2016) سے پھر اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ان کی اداکاری نے ثابت کیا کہ عمر یا وقت ان کی کشش اور اداکارانہ نکھار کو کم نہیں کر سکتے۔