ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہندوتوا کے مفتوحہ شہر میں  پجاریوں نے لڈو کھلا کر قومی پلئیر لڑکی کو ریپ کر دیا

Kanpur Ashram Rape case, Tikoindo national player rapped, Uttar Pardesh, Yogi Aditayanath
کیپشن: کان پور میں مندر سے ملحق آشرم میں قومی کھلاڑی کو ریپ ہوئے چار ماہ بیت گئے، پولیس "تحقیقا کر تو رہی ہے لیکن اتر پردیش میں جہاں یوگی آدتیا ناتھ کی حکومت ہے ، وہاں پجاریوں پر ہاتھ ڈالنا پولیس کے لئے آسان نہیں۔"
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پجاریوں نے لڈو کھلا کر ریپ کر دیا، ریپ ہونے والی کوئی عام خاتون نہیں بھارت کی قومی کھلاڑی ہے۔ یہ واقعہ کسی جنگل ویرانے میں نہیں  بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندوتوا پرست حکومت کے شکنجے میں پھنسے اتر پردیش کے بڑے شہر میں عین پولیس سٹیشن کے سامنے ہوا۔

اس واقعہ پر کوئی بھونچال نہیں آیا کیونکہ   19  سال عمر کی بے یار و مددگار قومی کھلاڑی کو شکایت پولیس تک لے جانے کی ہمت اکٹھی کرنے میں چار ماہ لگ گئے۔  بھارت میں قومی کھلاڑی کے ریپ کی شکایت پولیس تک پہنچنے کے بعد کیا ہوا؛ کچھ نہیں ہوا،بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہندو  پجاری کو پکڑنے کے لئے تو نہیں بنی۔ 

اتر پردیش میں جہاں بھاجپا کے ہندوتوا پرست یوگی آدتیا کی حکومت سالہا سال سے مسلمانوں کے گھر گرا رہی ہے یا ہندو پجاریوں، سادھووں اور تشدد  مین استعمال ہونے والے جنونیوں کو پال رہی ہے، کانپور شہر میں یہ واقعہ ہوا کہ تائیکو انڈو کی قومی کھلاڑی خاتون کو مشہور ہندو آشرم کے اندر پجاری اور اس کے ساتھیوں نے لڈو کھلا کر ریپ کر ڈالا۔

بھارتی میڈیا میں  رپورٹ ہونے والا یہ واقعہ ریاست اترپردیش کے شہر کانپور میں پولیس اسٹیشن کے عین سامنے قائم ہندو آشرم میں ہوا، جہاں  19 سالہ خاتون نیشنل پلیئر کو کئی افراد نے ریپ کیا۔ اس گروہ کا سرغنہ کو جرائم پیشہ لوفر نہیں بلکہ آشرم کا سب سے بڑا پجاری خود تھا۔ متاثرہ لڑکی جو گووند نگر علاقے میں کرائے پر رہتی ہے، انہوں نے بتایا کہ 28 جنوری 2025 کو یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ 

تائیکو انڈو کی چیمپئین یہ  قومی کھلاڑی پرانے کپڑے بیچنے کا سٹور بنانے کے لیے مناسب  جگہ تلاش کر رہی تھی، اسی دوران خاتون  کھلاڑی نے  گووند مہتو  سے  رابطہ کیا جو اسے مدد  دلوانے کیلئے ہندو  آشرم میں بااثر لوگوں سے ملوانے کیلئے لے گیا۔

 بھارت کی قومی کھلاڑی  خاتون نے انکشاف کیا کہ انہیں آشرم کے اندر آشرم کے بڑے پجاری سے ملوایا گیا، وہاں پجاری کے ساتھیوں نے اسے کھانے کے لئے تبرک کا ایک لڈو پیش کیا گیا جسے کھاتے ہی  وہ ہوش کھو بیٹھی۔  اس کے بعد گووند مہتو، آشرم کے چیف پجاری اور کئی دوسرے پجاریوں نے اسے ریپ کیا۔ 

 پولیس نے  بتایا کہ خاتون کے ساتھ یہ سنگین جرم سال کے آغاز میں ہوا تھا تاہم خاتون نے بااثر لوگوں کے خوف کی وجہ سے 4 ماہ بعد شکایت درج کروائی اور مندر کے پجاری سمیت 4 افراد کو نامزد کیا، خاتون نے ثبوت کے طور پر  پولیس کو اپنے ساتھ آئے واقعے کی ویڈیو بھی پیش کی۔متاثرہ ن خاتون نے بتایا کہ اس نے لڈو کے نشے میں ریپ کے جرم کے دوران خوف کے مارے اپنے سیل فون کا کیمرہ آن کر لیا تھا جس نے کچھ واقعہ ریکارڈ کر لیا۔ ریپ کرنے  والوں نے بھی اس کی ویڈیو بنائی تھی اور اسے خاموش رہنے اور ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دی تھی۔

پولیس نے اب تک کسی پجاری کو گرفتار نہیں کی۔ شاید  آدتیا ناتھ کی حکومت میں  ریپسٹ پجاریوں  کو  کسی عام پجاری سے زیادہ وقعت دی جاتی ہے۔

Caption  انڈیا ٹوڈے میں خاتون پلئیر کے ریپ کی خبر کے ساتھ نریندر مودی کی یہ تصویر معلوم نہیں کیوں  ہے۔  گوگل سرچ ایسا ہی دکھا رہی ہے۔ 

پولیس کا مؤقف
متاثرہ  کھلاڑی لڑکی نے چار ماہ بعد ڈی سی پی ساؤتھ دیپیندر ناتھ چودھری سے رابطہ کیا۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ شکایت موصول ہوئی ہے اور جانچ اے ڈی سی پی کو سونپ دی گئی ہے۔ رپورٹ درج کرکے کارروائی کی جائے گی۔


قومی سطح کی تائیکوانڈو کھلاڑی
پجاریوں کے ریپ کا شکار ہونے والی یہ لڑکی عام شہری نہیں بلکہ  قومی سطح کی تائیکوانڈو کھلاڑی ہے اور فینسنگ میں بھی منتخب ہوچکی ہے۔ ماں کی وفات کے بعد وہ پرانے کپڑے بیچ کر اپنا خرچہ چلاتی ہیں۔

خواتین کی حفاظت
انڈین میڈیا کے نسبتاً روشن خیال لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ واقعہ نہ صرف ایک سنگین جرم ہے بلکہ معاشرے میں خواتین کے تحفظ پر ایک بار پھر سوالات اٹھاتا ہے۔ پولیس کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہی متاثرہ  لڑکی کو انصاف دلا سکتی ہیں۔