لاہور پولیس کی پچاس فیصد گاڑیاں خستہ خالی کا شکار

لاہور پولیس کی پچاس فیصد گاڑیاں خستہ خالی کا شکار

(عرفان ملک) لاہور پولیس کی پچاس فیصد گاڑیاں اپنی مدت معیاد پوری کر گئیں،سی سی پی او ذوالفقار حمید نے گاڑیوں کی مرمت کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دے دی اور اس حوالے سے فنڈز بھی جاری کر دیئے گئے۔

لاہور پولیس کی گاڑیاں اکثر شاہراہوں پر دھکا لگاتی اور خستہ خالی کا شکار نظر آتی ہیں جس سے جہاں پولیس کی کار کرد گی متاثر ہوتی ہے وہیں پر پولیس کا مورال بھی گرتا دکھائی دیتا ہے۔ سی سی پی او ذوالفقار حمید نے اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے گاڑیوں کی مرمت کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی دو ایس ایس پیز کی سربراہی میں کام کرے گی اور مدت پوری کر جانے اور خراب گاڑیوں کی تفصیلات سی سی پی او آفس کو بھجوائی جائیں گی۔

آئی جی آفس سے نئی گاڑیاں بھی لاہور پولیس کو دی جا رہی ہیں۔ ایس ایس پی ایڈمن ملک لیاقت کے مطابق خراب گاڑیوں کی مینٹیننس کا کام جلد شروع کیا جائے گا۔ 

دوسری جانب صوبے کی سب سے بڑی لاہور پولیس فورس پر ائندہ سال اٹھارہ ارب روپے خرچ ہوں گے ، لاہور پولیس نے حکومت سے رواں سال کی نسبت سات ارب روپے زیادہ کی ڈیمانڈ کی، رواں مالی سال دو ہزار انیس بیس کے دوران لاہور پولیس کو گیارہ ارب روپے کا بجٹ دیا گیا تھا تاہم آئندہ مالی سال کے لیے لاہور پولیس نے اٹھارہ ارب روپے کی ڈیمانڈ کر دی ہے ۔

پولیس افسران کا کہنا تھا کہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ اہلکاروں اور افسران کی تنخواہوں پر خرچ کیا جاتا ہے اور آئندہ بجٹ میں لاہور پولیس کے نئے تھانوں ، ڈولفن سکواڈ کی عمارتوں اور نفری میں اضافے کے باعث بجٹ کی رقم بڑھی ۔ پولیس زرائع کے مطابق آئی جی پنجاب نے تمام اضلاع سے مطلوبہ بجٹ کی تفصیلات مانگی تھیں جا کے بعد لاہور پولیس نے مطلوبہ بجٹ کی تفصیلات آئی جی آفس کو بھجوا دی ہیں۔