ویب ڈیسک : جہیز کی ہوس نے ایک اور حوا زادی کی جان لے لی۔
شادی میں 2 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ، 70 لاکھ کی کار اور 300 تولے سونا دینے کے باوجود سسرالیوں کا لالچ ختم نہ ہوا ۔ مظالم سے عاجز آ کر نئی نویلی دلہن نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
بھارت کی ریاست تامل ناڈو کے شہر تیرپور میں 27 سالہ ریتھنیہ نے محض 78 دن قبل کیوِن کمار نامی نوجوان سے دھوم دھام سشادی کی تھی۔ لڑکی کے والد انادورائی نے شادی پر تقریباً ڈھائی کروڑ روپے خرچ کیے تھ۔ جس میں 70 لاکھ روپے مالیت کی کار، 800 گرام سونا اور 300 تولے زیورات جہیز کے نام سے دیئے جبکہ مزید 200 تولے سونا بعد میں دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اتنا کچھ لانے کے باوجود شادی کے صرف 10 دن بعد ہی ریتھنیہ پر سسرال والوں کا ظلم شروع ہوگیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ساس، سسر اور شوہر سب ریتھنیہ کو ذہنی اذیت دیتے تھے، اسے معمولی باتوں پر گھنٹوں کھڑا رکھا جاتا، جبکہ شوہر جسمانی تشدد کرتا اور دھمکیاں دیتا کہ اگر اس نے کسی کو سچ بتایا تو وہ خودکشی کر لے گا۔ ریتھنیہ نے اس ظلم و ستم کا ذکر کرتے ہوئے اپنے والد کو 7 آڈیو میسج بھیجے، جس میں اس نے دل دہلا دینے والی باتیں کیں۔
اپنے آخری میسج میں ریتھنیہ نے کہا،’میں روز ان کی ذہنی اذیت برداشت نہیں کر سکتی، سب لوگ کہتے ہیں سمجھوتہ کرو، یہ زندگی ایسے ہی چلتی ہے، مگر کوئی میری تکلیف کو نہیں سمجھتا۔‘
خاتون نے اپنے میسج میں لکھا، ’مجھے یہ زندگی پسند نہیں، یہ لوگ مجھے مار رہے ہیں اندر سے، آپ ہی میری دنیا تھے اب اور برداشت نہیں ہو رہا میں جا رہی ہوں۔‘
29 جون 2025ء کو ریتھنیہ نے اپنے سسرالیوں سے کہا کہ وہ مندر جا رہی ہے، راستے میں اس نے زہریلی دوا خریدی اور اسے پی لیا، جب کافی دیر تک وہ واپس نہ آئی تو پولیس کو اطلاع دی گئی، پولیس کو کار کے اندر اس کی لاش ملی، منہ سے جھاگ نکل رہے تھے، اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کردی۔
ریتھنیہ کی خودکشی کے بعد اس کے شوہر کیوِن کمار، ساس اور سسر کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
والد انادورائی نے مقدمہ درج کرواتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی کو مسلسل مزید جہیز کےلیے ہراساں کیا جا رہا تھا۔