ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سانحہ سوات؛ نااہلی کے بعد اقربا پروری، علی امین حکومت باز نہیں آئی

سانحہ سوات؛ نااہلی کے بعد اقربا پروری، علی امین حکومت باز نہیں آئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 سٹی42: دریائے سوات میں پانی کے ریلے میں پھنس کر  پنجاب کے  12 سیاحوں  کے مرنے پر تنقید کی زد میں آئی ہوئی علی امین حکومت آج تجاوزات ہٹانے میں اقربا پروری کے الزامات کی زد میں آ گئی۔ 

دو روز پہلے دریائے سوات میں پنجاب کے 12 سیاح ڈوب کر مر گئے تو خیبر پختونخوا کی علی امین گنداپور حکومت شدید عوامی تنقید کی زد میں، عوام نے ریسکیو نظام کی نااہلی اور دریا کے کناروں پر تجاوزات ہٹانے میں علی امین کی عدم دلچسپی کو حادثات کی بڑی وجہ قرار دیا۔ عوامی تنقید کے بعد علی امین گنڈاپور حکومت نے دریائے سوات کے کنارے "تجاوزات کے خلاف آپریشن" کیا اور اپنے حامیوں کی تجاوزات چھوڑ دیں جبکہ سابق وفاقی وزیر امیر مقام کے ہوٹل کی چار دیواری گرا دی۔

سوات میں تجاوزات کے خلاف دوسرے روز بھی آپریشن جاری ہے،  فضاگٹ روڈ  پر دریائے سوات کے کنارے کئی دکانیں اور  چھپر ریسٹورنٹ گرا مسمار کر دئے گئے ۔ 

دریا کے کنارے  بنے تفریحی پارک کو بھی  انتظامیہ نے مسمار کر دیا۔ 

با اثر شخصیات کے ہوٹل کی باری آئی تو آپریشن بند ہو گیا

مقامی شہریوں  نے انکشاف کیا  کہ انتظامیہ تجاوزات آپریشن میں تفریق سے کام لے رہی ہیں، بااثر شخصیات کے ہوٹل اور اراضی تک پہنچتے ہی آپریشن بند کر دیا گیا۔ 

  مقامی رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر انتظامیہ نے تفریق سے کام لیا تو احتجاجی مظاہرے کریں گے ۔ 

 سابقہ گورنر غلام علی کی مبینہ جائیداد اور ٹاون میں کارروائی 

دریا کے  کنارے موجود ٹاون میں  کھدائی شروع کی گئی۔

انجنئیر امیر مقام کے ہوٹل میں بھی کارروائی کی گئی اور انجینئیر امیر مقام کے ہوٹل کی دیوار گرا دی گئی۔

  ہوٹل  کے منتظمین نے مزاحمت بھی کی۔ ان کے پاس تمام سرکاری کاغذات پورے تھے۔ اہوں نے اصرار کیا کہ اس ہوٹل میں کچھ بھی غیر قانونی تجاوزات کے زمرہ مین نہیں آتا۔

  امیر مقام کے کزن نے کہا،   اپنی ناکامی چھپانے کے لئے انتظامیہ تجاوزات ہٹانے کے نام سے ہمارے خلاف یہ ڈرامہ رچا رہی ہے،

 امیر مقام کے کزن نے بتایا،  ہمارے پاس ہوٹل کے تمام کاغذات موجود ہیں۔ ہماری کوئی چیز غیر قانونی نہیںْ۔ پہلے سیاحوں کی جانیں بچانے میں شرم ناک نا اہلی سامنے آئی، اب تجاوزات کے خلاف آپریشن میں لوگوں کے کاروبار تباہ کردئے گئے،  امیر مقام کزن

آج کیا ہوا

دریائے سوات کے کنارے تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران وفاقی وزیر  امیر مقام کے ہوٹل کی باؤنڈری وال گرادی گئی۔

سانحہ سوات کے بعد دریا کے کنارے تجاوزات کےخلاف آپریشن کا آج دوسرا دن تھا۔ 

علی امین حکومت کی انتظامیہ نے بتایا  کہ اب تک  26 ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کی جاچکی ہے۔

متاثرہ فیملی  (جس کے 12 افراد دریا مین پانی کا ریلا آنے کے دوران مدد نہ ملنے کی وجہ سے ڈوب گئے) ان لوگوں نے دریا کےکنارے جس ہوٹل پر ناشتہ کیا تھا وہ  ہوٹل بھی گرادیا ہے۔

 تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران وفاقی وزیر امیر مقام  کے ہوٹل کی باؤنڈری وال گرادی گئی۔ ہوٹل ملازمین کی مداخلت کے باعث ہوٹل گرانے کا کام روک دیا گیا۔

 امیر مقام کا کہنا ہےکہ  ان کے پاس بلڈنگ کا این اوسی موجود ہے، ان کا ہوٹل تجاوزات میں نہیں آتا، صوبائی حکومت کی ایما پر میرے ہوٹل کی چار دیواری گرائی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہےکہ  تجاوزات کے خلاف آپریشن کا مقصد سیاحوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔

سیاحوں کے مرنے کی وجہ کیا تھی

دریائے سوات سانحہ کے جو حقائق سامنے آئے ان کے مطابق  دریا کے کناروں پر پبلک کو خطرات سے آگاہ کرنے کا نظام موجود نہیں تھا۔ سوات دریا میں طغیانی / پانی کا ریلا آنے کی صورت میں قبل از وقت وارننگ دریا کے اوپر  کے علاقہ سے نیچے تک ہر جگہ جاتی ہے، سائرن بجانے کا نظام کاغذوں میں موجود ہے۔

ریسکیو1122 کے اہلکاروں کے کسی حادثہ کی سورت میں فوراً پہنچنے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ درجنوں کالیں کرنے کے بعد جب ریسکیو کے اہلکار فضا گٹ کے سب سے برے  تفریحی مقام پر دریا میں پھنسے سیاحوں کی مدد کے لئے پہنچے تو ان کے پاس مدد کرنے کا کوئی سامان نہیں تھا، وہ بھی آ کر  سیاحوں کی موت کا تماشا دیکھنے والوں میں  شامل ہو گئے۔

انتظامیہ نے دفعہ 144 لگا کر دریا میں جانے سے روکنے کا حکم تو دیا لیکن دریا مین جانے والوں کو روکنے والا دریا کے کنارے ایک بھی اہلکار نہیں تھا۔ دریا کے کنارے کسی کو پتہ ہی نہیں تھا کہ دریا میں جانا منع ہے۔

ڈی سی او کا عذرِ لنگ

آج ڈی سی او نے انکوائری کمیٹی کو اپنے بیان میں بتایا کہ آٹھ جگہوں پر سیاح دریا میں پانی کے ریلے میں پھنسے وئے تھ۔ دو جون کو دریا میں نہانے اور کشتی چلانے پر پابندی لگائی تھی۔، 23 جون کو دفعہ 144 لگا کر دریا میں نہانے کے لئے پابندی لگائی تھی۔

اس پابندی کی پابندی کروانا ڈی سی او کی ہی ذمہ داری تھی، اس پابندی پر ضلع بھر مین کہیں بھی عمل نہیں کیا جا رہا تھا اور ضلعی انتظامیہ خاموشی سے تماشا دیکھ رہی تھی۔ 

چیف سیکرٹری نے آج بتایا کہ ریسکیو 1122  کو اب ضروری سامان دینے کے لئے حکم جاری کر دیا ہے۔

علی امین گنڈاپور کے  ترجمان بیرسٹر سیف نے آج میڈیا کو بتایا کہ ریسکیو ون ون ٹو ٹو کے اہلکار اس لئے تاخیر سے پہنچے کہ وہ دوسری جگہوں پر ریسکیو کی کارروائیوں مین مصروف تھے۔