ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے سال 2026 کے پہلے روز باؤنس چیک کے مقدمے میں ملوث ملزم کی درخواستِ ضمانت خارج کر دی۔ درخواستِ ضمانت مسترد ہونے کے بعد ملزم کی جانب سے فرار ہونے کی کوشش کی گئی تاہم تھانہ نیو انارکلی کے تفتیشی افسر نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو دبوچ لیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود باجوہ نے باؤنس چیک کے ملزم فقیر حسین کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران ملزم فقیر حسین اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوا۔
دورانِ سماعت وکیلِ صفائی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم کے خلاف تھانہ نیو انارکلی میں باؤنس چیک کا مقدمہ درج ہے جس کی مالیت تین لاکھ 89 ہزار روپے ہے۔ وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ محض لین دین کا تنازع ہے، اس لیے ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہیے۔دوسری جانب سرکاری وکیل نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزم پولیس تفتیش میں قصوروار پایا گیا ہے اور وہ ضمانت کا حقدار نہیں۔ سرکاری وکیل کے مطابق شواہد ملزم کے خلاف ہیں اور ضمانت ملنے کی صورت میں تفتیش متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود باجوہ نے ملزم فقیر حسین کی درخواستِ ضمانت خارج کر دی۔ عدالتی فیصلہ سنائے جانے کے فوراً بعد ملزم نے عدالت سے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم موقع پر موجود تھانہ نیو انارکلی کے تفتیشی افسر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو تحویل میں لے لیا۔عدالتی حلقوں کے مطابق باؤنس چیک جیسے مقدمات میں عدالتیں شواہد اور تفتیشی عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کر رہی ہیں تاکہ مالی بددیانتی کے واقعات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App