سٹی 42: چیئرمین ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ گوہر اعجاز نے روپے کی ڈی ویلیوایشن کی مخالفت کر تے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو ڈی ویلیو ایشن کی نہیں استحکام کی ضرورت ہے،کرنسی کی مزید ڈی ویلیوایشن سے مہنگائی کا طوفان آئےگا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر (ایکس) پر جاری ایک پیغام میں سابق نگران وزیر گوہر اعجازکا کہنا تھا کہ بعض عناصر ذاتی مفادات کے لیے روپے کی ڈی ویلیو ایشن کی سپورٹ کر رہے ہیں،پاکستان کا ریئیل ایکسچینج ریٹ 104 ریکارڈ کیا گیا ہے،پاکستان کی کرنسی 278 سے 282 روپے فی ڈالرز پر مستحکم ہوچکی ہے ،کرنسی کی مزید ڈی ویلیوایشن سے مہنگائی کا طوفان آئے گا،کرنسی کو ڈی ویلیو کرنے سے امپورٹس میں ہنگامی اضافہ ہوگا،روپے کی بے قدری سے ملکی مسابقت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،ریئیل ایکسچینج ریٹ کے مطابق روپے کی بے قدری کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ روپے کی بے قدری کی وجہ سے 92 فیصد معیشت متاثر ہو رہی ہے، پاکستان کی 50 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے،روپے کی بے قدری کرکے غریب عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ نہ ڈالا جائے،2022 سے 2025 کاڈیٹا بتا رہا ہے کہ ایکسپورٹس کا ایکسچینج ریٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے، 2024 اور 2025 میں حقیقی ایکسچینج ریٹ بلترتیب 98.5 اور 100.9 فیصد تک بڑھا،اس دوران برآمدات 40 ارب ڈالرز تک پہنچ گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ رئیل ایکسچینج ریٹ کی آڑ میں 2023 میں ملکی کرنسی کو تباہ کیا گیا،کرنسی ڈی ویلیو ایشن کی وجہ سے ملکی برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی ،ایکسپورٹس میں ریکارڈ کمی نے کرنسی ڈی ویلیوایشن پر غلط فہمی کو دور کردیا ،پاکستان کی ایکسپورٹس میں اضافہ کرنسی ڈی ویلیو کرنے سے نہیں آتا ،پاکستان کی ایکسپورٹس میں کمی کے کئی اور عوامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے مینوفیکچرنگ شعبہ کو 12 سے 14 سینٹ فی یونٹ پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے ،ہمسایہ ممالک میں بجلی 6 سے 8 سینٹ فی یونٹ پر بجلی مل رہی ہے،پاکستان میں شرح سود 11 فیصد ہے،ہمسایہ ممالک میں شرح سود 5.5 فیصد پر ہے،پاکستان کا مینوفیکچرنگ شعبہ درآمدی خام مال پر انحصار کرتا ہے۔
گوہر اعجاز کا مزید کہنا تھا کہ کرنسی مارکیٹ اعتماد پر رد عمل دیتی ہے،استحکام پیدا کیا جائے اور پیداواری لاگت کو کم کیا جائے،عالمی مقابلہ بازی کے لیے اداروں کی بنیاد بنائی جائے۔