اگر وہ اسمبلیاں توڑیں گے تو ہم الیکشن لڑیں گے، آصف زرداری

Asif Ali Zardari told about elections in interview
کیپشن: Asif Ali Zardari
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ویب ڈیسک)سابق صدر آصف زرداری نے کہاہے کہ پرویزالٰہی کے علاوہ بھی بہت سی چوائس ہیں،پرویزالٰہی کوڈپٹی وزیراعظم، 17وزارتیں دے چکاہوں،پرویزالٰہی سے اب دوریاں بڑھ گئی ہیں،پنجاب میں ہمارے پاس بہتر چوائس موجود ہے،ان کاکہناتھا کہ اگراسمبلیاں تحلیل ہوئیں تودوبارہ الیکشن ہوجائیں گے،اگراسمبلیاں توڑی گئیں توالیکشن میں مقابلہ کریں گے،اگراسمبلیاں نہ توڑی گئیں تواپوزیشن کرتے رہیں گے۔

نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے کہاکہ عمران خان چھوٹی سوچ کے مالک ہیں،عمران خان کی سوچ سیاسی نہیں ہے،عمران خان غلط فیصلہ کرتے توقوم کیلئے زیادہ مشکل ہوتی،ہمیں کسی سے خوف نہیں،دھرتی سے پیارہے،عمران خان جو کرنے جارہے تھے،اسے روک لیا،کچھ ایسی چیزیں ہیں جن پربات نہیں کرناچاہتا،کچھ چیزیں نہ بتانا ہی بہتر ہوتا ہے۔

 سابق صدر کاکہناتھا کہ سیاست میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے،برطانیہ میں 3سال میں 5وزیراعظم تبدیل ہوئے،حکومت تبدیل ہونے سے کچھ نہیں ہوتا،جمہوریت مضبوط ہوتی ہے،صدرکے اختیارات وزیراعظم کومنتقل کرناپیپلزپارٹی کاوژن تھا،ہم لوگوں کوجوڑ کرملک کوبچانا چاہتے ہیں،یہ میرا ملک ہے،کہیں جانا نہیں چاہتا۔

ان کاکہناتھا کہ موجودہ آرمی چیف کوذاتی طورپرنہیں جانتا،ذاتی طورپرصرف لیفٹیننٹ جنرل عامرکوجانتاتھا،سابق جنرل باجوہ نے مجھ سے کبھی ایکسٹینشن کانہیں کہا،لیفٹیننٹ جنرل عامر کومیں آگے لاناچاہتا تھا،لیفٹیننٹ جنرل عامرسینیارٹی میں دوسرے نمبرپرہوتے توکچھ سوچ سکتاتھا،آرمی چیف کا تقرر میرٹ پر ہوا ہے،وزیراعظم کوفیصلے کامکمل اختیار دیا،وزیراعظم نے ہمیں بلاکرپوچھایہ ان کابڑا پن ہے،نظریاتی اختلاف کے باوجودشہبازشریف کونہیں چھوڑسکتے،سائفرسمیت تمام الزامات بچگانہ تھے،تمام ممالک سے برابری کی سطح پرتعلقات چاہتے ہیں،کسی ملک سے تعلقات خراب کرنانہیں چاہتے۔

انہوں نے کہاکہ باجوہ ڈاکٹرین میں کچھ چیزیں اچھی اوربری تھیں،باجوہ صاحب نے ہمارے ساتھ بیٹھ کرکبھی بات نہیں کی،اداروں نے غیرسیاسی رہنے کادرست فیصلہ کیا،کیانی صاحب غیرسیاسی ہونے کی صرف باتیں کرتے تھے،آصف علی زرداری کاکہناتھا کہ پہلے کے مقابلے میں میڈیا بہت طاقتورہوگیا ہے،پورا زورلگا کر25ہزارلوگ جمع کرنےوالا مقبول نہیں ہوتا،عمران خان کراچی میں پیپلزپارٹی کامقابلہ نہ کرسکے۔

سابق صدر نے کہاکہ ہم پنجاب میں30سال سے پاورمیں نہیں آسکے،پنجاب میں اپنی کمزوریاں دور کریں گے،پنجاب میں عمران خان کا مقابلے کیلئے تیارہوں،میانوالی میں نواب آف کالاباغ عمران خان کامقابلہ کریں گے،نواب آف کالاباغ نے ہمیں جوائن کرلیا ہے، دیکھناہے یہ ٹھیکیداروں کوپوری ادائیگی کیسے کررہے ہیں،جتناکام ہوتاہے ٹھیکیدارکواتنی ادائیگی کی جاتی ہے،جس کے پاس جاتا ہوں وہ مجھے عزت دیتا ہے،2030کومنصوبہ نہ ہوتا توہم اتنا لڑتے کیوں؟لوگ ایک بات کرتے ہیں،میں مضمون سمجھ لیتاہوں،حکومت نے کوئی بیانیہ بنانے کی کوشش نہیں کی۔

ان کاکہناتھا کہ گھڑی بیچی گئی ہے تویہ ان کی اپنی غلطی تھی،ہم نے گاڑیوں کی قیمت ادا کرکے حاصل کیں،توشہ خانہ کیس میں مجھے سزاہوئی،ابھی کیس ختم ہواہے،عمران خان کا احتساب کرناہے تو نیب کرے گا،اگرنیب نے احتساب نہ کیا توخود جواب دے گا۔

آصف زرداری کاکہناتھا کہ عمران خان چھپکلی سے ڈرتے ہیں،عمران خان جیل جاسکتے ہیں،انہوں نے کہاکہ ہمارے دورمیں برآمدات9ارب ڈالرسے بڑھ کر19ارب ڈالرہوئی،اگرسازش نہ ہوتی توبرآمدات30ارب ڈالرلے جانامشکل نہیں تھا،1800کی ڈی اے پی کی بوری12ہزارکی ہوگئی ہے،انہوں نے کہاکہ معیشت کوبہترکرنے میں وقت لگتا ہے،معیشت کی بہتری کیلئے آو¿ٹ آف دی باکس سوچناہوگا،حکومت سے6ماہ سے کہہ رہاہوں کہ چینی برآمدکرو۔

سابق صدر نے کہاکہ اتحادی حکومت میں کئی اختلافات ہوتے ہیں،الیکشن جیتنا ہارنا جمہوریت کا حصہ ہے،ہمیں اپنی معیشت کوبہتربنانا ہے،تھرمیں ہمارے پاس کوئلہ ہے،چین کوئلے سے گیس بناتا ہے،چین کوکوئلہ دےکرگیس اوریوریابنوایاجاسکتاہے،ان کاکہناتھا کہ اتحادیوں کی ہرخواہش پرحکومت کام نہیں کرتی۔

ان کاکہناتھا کہ پرویزالٰہی کے علاوہ بھی بہت سی چوائس ہیں،پرویزالٰہی کوڈپٹی وزیراعظم،17وزارتیں دے چکاہوں،پرویزالٰہی سے اب دوریاں بڑھ گئی ہیں،پنجاب میں ہمارے پاس بہتر چوائس موجود ہے،انہوں نے مزید کہا کہ اچانک الیکشن ہوتے ہوئے بھی دیکھے ہیں،قبل ازوقت انتخابات جمہوریت کیلئے اچھے نہیں،اگراسمبلیاں تحلیل ہوئیں تودوبارہ الیکشن ہوجائیں گے،اگراسمبلیاں توڑی گئیں توالیکشن میں مقابلہ کریں گے،اگراسمبلیاں نہ توڑی گئیں تواپوزیشن کرتے رہیں گے۔

سابق صدر نے کہاکہ خیبرپختونخوامیں کچھ دوست گمراہ ہیں،انھیں واپس لائیں گے،ایساطریقہ کریں گے کہ استعفے نہ آئیں،اسمبلیاں چلتی رہیں،ان کا کہناتھا کہ ہم نے ووٹ نہیں خریدے،مستقبل سے متعلق بات ہوتی ہے،ووٹ خریدنے کی کبھی ضرورت نہیں پڑی،الیکشن اپنے وقت پرہونے چاہئیں،نہیں لگاکہ ادارے اب سیاست میں مداخلت کریں گے۔

آصف زرداری نے کہاکہ پاکستان کی برآمدات بڑھ جائے توبھارت سے تجارت کیلئے الگ اندازمیں بات کریں گے،ابھی بھارت سے تجارت کیلئے بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں،پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کاکوئی خطرہ نہیں،چینی برآمد کرکے ایک ارب ڈالرحاصل کرسکتے ہیں،ان کاکہناتھا کہ بات کرنے کیلئے کردار بہترکرنا ہوتا ہے،عمران خان رویہ بہتر کریں تو بات کرلیں گے،انہوں نے کہاکہ کالعدم ٹی ٹی پی ہمارے کیلئے بڑا خطرہ ہے،صدرمملکت بے اختیارہیں،مواخذے کی بات قبل ازوقت ہے۔