ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں، خصوصاً 2016 سے 2018 کے دوران، پیلٹ گنز کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا گیا: ترجمان دفتر خارجہ

بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں، خصوصاً 2016 سے 2018 کے دوران، پیلٹ گنز کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا گیا: ترجمان دفتر خارجہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں، خصوصاً 2016 سے 2018 کے دوران، پیلٹ گنز کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا گیا، بعض حد تک یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ پاکستان بھارت کے غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کے دیگر حصوں میں پیلٹ گنز کے استعمال کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ 

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک اہم رپورٹ میں پیلٹ گنز کے استعمال سے متاثرہ افراد کی بڑی تعداد میں بینائی سے محرومی (نابینا پن) کو نمایاں کیا گیا تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک اہم رپورٹ میں پیلٹ گنز کے استعمال کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقائق اب تاریخ کا حصہ ہیں اور ان کی دستاویزی شہادتیں موجود ہیں، اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی 2018 اور 2019 میں جاری ہونے والی دونوں رپورٹوں میں بھی اس کو تفصیل سے درج کیا گیا تھا۔ سول سوسائٹی تنظیموں نے بھی اس معاملے کی مسلسل نگرانی کی، انہوں نے اس حوالے سے اپنی رپورٹس بھی مرتب کیں۔ 

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پیلٹ گنز متاثرین، ان کی بحالی اور علاج سے متعلق معلومات بھی کسی حد تک دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔ جہاں کہیں بھی پیلٹ گنز کا استعمال کیا جائے، وہ قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول ہے۔ خواہ وہ بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہو یا خود بھارت کے دیگر علاقوں میں، پاکستان ہر جگہ پیلٹ گنز کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ 

اقوام متحدہ کے بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق کے معاہدے کے تحت بھی پوچھا گیا کہ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گنز جیسے مہلک ہتھیار کا استعمال کس حد تک جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ بھارت نے پیلٹ گنز کے استعمال کو ہجوم پر قابو پانے کا ذریعہ قرار دے کر اس کا جواز پیش کیا، تاہم اس حوالے سے تمام پیش رفت اور حقائق اچھی طرح دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔